What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

اندازِ پسند

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر دسمبر 27, 2005

جن جوتوں کو پہننے سے آپ کے پاؤں میں تکلیف محسوس ہو انہیں پہننے سے دوسررں کو بھی تکلیف ہی ہو گی ۔
ہمیشہ خیال رکھئے کہ دوسرے کے لئے وہی پسند کیجئے جو آپ کو پسند ہو

Advertisements

4 Responses to “اندازِ پسند”

  1. میرے خیال میں جوتوں کا استعارہ مناسب نہیں۔ پھر کیا ہو کہ اگر دوسروں کو وہی جوتا پورا آجائے۔ سیدھی بات زیادہ مناسب ہو گی۔ مثلاُ جن باتوں کو سننے سے آپ کے سر میں درد ہو یا کانوں میں تکلیف محسوس ہو ان سے دوسروں کو تکلیف ہو گی۔ معذرت کے ساتھ جملے کی اصلاح کر رہا ہوں کیونکہ دل شکنی مناسب نہیں سمجھتا۔ مجھے لگتا ہے آپ نے جان بوجھ کر اپنے قارئین کا امتحان لینے کی غرض سے ایسا لکھا ہے۔

  2. اجمل said

    جنجوعہ صاحب
    بات آپ کی سمجھ میں آ گئی سو میرا مقصد پُورا ہو گیا ۔ سیدھا سیدھا لکھنے سے قارئین کی ناراضگی کا خدشہ تھا ۔ میں نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ مماثلت ڈھونڈی ہے

  3. WiseSabre said

    اور جو جوتے آپ پہن نہ سکیں وہ بغل میں دبانے پڑتے ہیں۔

    اور اگر آپ کو کسی کو بغل میں جو تا دباۓ دیکھ کر تکلیف ہو تو اپنے جو تے واپس پہن لیں۔

    :))

  4. اجمل said

    ثاقب سعود صاحب
    بغل میں جوتے دبانے والے دوسرے کے لئے تنگ جوتے نہیں خریدتے ہوں گے 🙂

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: