What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

رو کر ہنسایا ۔ مسکرا کر رولائیں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر دسمبر 11, 2005

جب آپ پیدا ہوۓ تو آپ رو رہے تھے
اور باقی سب لوگ خوش ہو رہے تھے

اپنی زندگی ایسے گذارئیے کہ جب موت آۓ
آپ مسکرا رہے ہوں اور باقی سب رو رہے ہوں

Advertisements

3 Responses to “رو کر ہنسایا ۔ مسکرا کر رولائیں”

  1. اچھی نصیحت مگر مشکل کام۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہر کوئی آپ سے خوش رہ سکتا ہے؟؟؟؟

  2. بہت خوب، درحقیقت زندگی کا طریق کچھ یوں ہی ہونا چاہئے
    ویسے بھی ایک اچھے مسلمان کی علامت ہے کہ وہ معاملات میں اچھا ہو۔
    تب لوگ تو خود بخود روئیں گے۔

  3. اجمل said

    شعیب صفدر صاحب
    کام ضرور مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ۔ اگر کوئی غلط کام نہ کیا جاۓ اور کسی کو دکھ دینے سے بچا جاۓ تو میرا یہ تجربہ ہے کہ ایسے شخص کی موت پر اس کے بظاہر دشمن بھی روتے ہیں ۔ میں شقی القلب لوگوں کی بات نہیں کر رہا وہ تو اپنوں پر بھی نہیں روتے ۔

    ڈاکٹر افتخار راجہ صاحب
    آپ کا خیال سولہ آنے درست ہے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: