What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

فراغت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 27, 2005

بچپن میں سنا کرتے تھے "خالی بیٹھے شیطان سوجھے”۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت عطا فرماۓ ہمارے اساتذہ کو ۔ انہوں نے ہماری تربیّت بھی کچھ ایسی کی ۔ مجھے نہ تو گلی کی نکّڑ پر کھڑے ہو کر یا پلّی پر بیٹھ کر گپیں ہانکنے کی عادت تھی اور نہ آوارہ گردی کی ۔ اپنا وقت گذارنے کے لئے میں اچھی کتابیں پڑھتا اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھا کرتا تھا ۔ جن پر میرے اساتذہ مجھے شاباش دیا کرتے تھے اور میں خوشی سے پھولا نہ سماتا ۔ کچھ دن پہلے میں اپنے کاغذات پھرول رہا تھا کہ مجھے بچپن کی لکھی ایک کہانی ملی جس پر میرے استاد اتنے خوش ہوۓ تھے کہ صبح دعا کے وقت انہوں نے سارے سکول کے طلباء اور اساتذہ کے سامنے پڑھ کر سنائی تھی ۔ وہ کہانی میں دو دن پہلے بلاگ پر لکھ چکا ہوں ۔

علّامہ اقبال فراغت کے سلسلہ میں کہتے ہیں ۔ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ
میّسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندہء حر کے لئے جہاں میں فراغ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: