What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

یا اللہ تیرے یہ بندے کدھر جائیں ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 15, 2005

ہمارے ملک میں صرف ایک خود ساختہ زمینی خدا کے نہ صرف اصلی بلکہ مفروضہ تحفظ کے لئے لاکھوں پاکستانی جانوں کو مصیبت میں ڈالا جا سکتا ہے ۔ یہ خود ساختہ خدا ہی پاکستان ہے باقی ہم لوگوں کی قدر اس چارے کے برابر بھی نہیں جو مویشیوں کو ڈالا جاتا ہے ۔ چار پانچ روز قبل اچانک اس خود ساختہ خدا کو احساس ہوا کہ اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ 30000 آدمی پہاڑوں سے اتر کر اسلام آباد کی فضا میں اپنی گھٹیا سانسیں چھوڑ رہے ہیں ۔ اگر زلزلہ آیا ہے تو ان کے گھروں میں آتا رہے مگر میری فضا گندی کرنے کی انہیں اجازت نہیں دے سکتا ۔ میں نے ڈالر اکٹھے کرنے تھے کر لئے میرے ثناخوانوں اور حواریوں نے عمدہ یورپی کمبل اور پکنکیں منانے کے لئے خیمے لینا تھے لے لئے چنانچہ حکم دے دیا گیا کہ نکالو ان کو یہاں سے اور 13 نومبر کو 1000 بے خانماں متاءثرین کو نکال دیا گیا ۔ چند دنوں میں اسلام آباد خالی کرا لیا جاۓ گا ۔ جن مصیبت زدہ زلزلہ کے متاءثرین کا کھانے پینے اور رہائش کا 90 فیصد خرچ راولپنڈی اور اسلام آباد کے عوام اور رفاہی ادارے اٹھا رہے تھے اور دن رات ان کی خدمت میں لگے تھے ۔ برفانی پہاڑوں میں ان بے خانماں لوگوں کا کیا ہو گا اس کی خود ساختہ خدا کو کیا پروا ۔ اقوام متحدہ والے اگر کہتے ہیں کہ سخت سردی سے بے شمار متاءثرین مر جائیں گے تو کہتے رہیں ۔ سوا لاکھ سے زیادہ مر چکے مزید مر جائیں تو پرکیپیٹا انکم (per capita income)میں اضافہ ہو جائے گا اور آقا (امریکہ) سے شاباش ملے گی ۔ کمال تو یہ ہے ان کو واپس پہنچانے کے لئے متاءثرین کا خرچ اٹھانے والے مقامی رفاہی اداروں کو ہی حکم دیا گیا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ پر حکومت کا خرچہ نہ ہو ۔

لاٹھی کی سرکار

نہ ہو کبھی کہیں برباد ۔گھر کسی کا ہو
نہ بے خطا ہو سر دار ۔ سر کسی کا ہو
تڑپ کے جاں نہ دے بے کسی کے عالم میں
جوان لاڈلا ۔ لخت جگر کسی کا ہو
اداس لوگوں پہ اب لاٹھیاں نہ برساؤ
کہ مشتعل نہ دل نوحہ گر کسی کا ہو
یہ سادہ لوح ۔ پہاڑوں کے غمزدہ خوددار
نہ زندگی میں زیاں اس قدر کسی کا ہو
تمام اعضاء سلامت ہیں جن کے وہ سوچیں
نہ ضائع اس طرح دست ہنر کسی کا ہو
ریاض الرحمان ساغر

اب پڑھیئے کچھ حالات حاضرہ اور خبروں کے بارے میں
1 ۔ ” اعزاز” اور احساس محرومی
2 ۔ حکومت کس دردمندی سے زلزلہ زدگان کے دامن تارتار کی بخیہ گری کر رہی ہے

Advertisements

2 Responses to “یا اللہ تیرے یہ بندے کدھر جائیں ؟”

  1. Asma said

    Assalam o alaykum w.w!!

    Hmm .. well thinking about deaths in terms of increasing per capita income is sheer vrutality … the people who embraced martyrdom in this natural calamity … they were productive too and people now suffering some from again natural weather harshness and many others from physical disabilities and ampuations they were productive too … !!!

    may Allah help them.
    See a link by Dr. Essg on my blog regarding trauma patient handling … just the basics !

    wassalam

  2. اجمل said

    اسماء صاحبہ
    میں نے پر کیپیٹا انکم کا ذکر طنزیہ طور پر کیا تھا ۔ جو حکومت سمندر پار پاکستانیوں کے بھیجے ہوۓ زر مبادلہ اور مقامی مارکیٹ سے مہنگے داموں زر مبادلا خرید کر ریزروز بنا کر ان پر فخر کرتی ہے اس حکومت سے آپ کیا اچھی توقع رکھتی ہیں ؟
    آخر ایسی کیا آفت آئی ہے کہ بے خانماں لوگوں کو بغیر مناسب انتظام کئے برفانی علاقوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے ؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: