What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

اج آکھاں وارث شاہ نوں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 2, 2005

اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچون بول
تے اج کتابے عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لکھ لکھ مارے وین
اج لکھاں دھیآں رودیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن
اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب
کسے نے پنجاں پانیاں وچ اج دتی زہر رلا
تے اوہناں پانیاں نوں دتا دھرت نوں لا
جتھے وجدی پھوک پیار دی او ونجلی گئی گواچ
رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اوس دی جاچ
دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیّئاں چون
پریت دیاں شہزادیاں اج وچ مزاراں رون
اج کتھوں لیآئیے لب کے وارث شاہ اک ہور
اج تے سبے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور

امریتا پرتم کور ۔ چھ ماہ کی علالت کے بعد 31 اکتوبر 2005 کو بھارت میں فوت ہو گئی ۔ وہ 31 اگست 1919 کو پنجاب کے اس حصہ میں پیدا ہوئی تھی جو اب پاکستان میں شامل ہے ۔ 1947 میں ہجرت کر کے بھارت چلی گئی تھی ۔ اس نے شاعری اور نثر کی ایک سو کے لگ بھگ کتب لکھیں جن میں حقیقت کا ساتھ نہ چھوڑا اور خاصی تنقید کا نشانہ بنی ۔ مندرجہ بالا نظم اس نے 1947 کے قتل عام سے متاءثر ہو کر لکھی تھی ۔ جس نے بھارت میں اس پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی تھی ۔

مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے یہ نظم کہاں سے پڑھی تھی یقینی بات ہے کہ کہیں سے بھارت میں چھپا ہوا کوئی اخبار یا رسالہ ہاتھ لگ گیا ہو گا ۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ بچپن سے ہی مجھے یاد ہے ۔ جو قاری پنجابی نہیں جانتے ان کی خاطر نیچے اردو ترجمہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے ۔ غلطیوں کی معذرت پیشگی ۔

آج کہوں وارث شاہ سے کہیں قبروں میں سے بول
اور آج کتاب عشق کا کوئی اگلا صفحہ کھول
ایک روئی تھی بیٹی پنجاب کی تو نے لکھ دیئے تھے بہت بین
آج لاکھوں بیٹیاں رو رو کے اے وارث شاہ تجھے کہیں
اٹھو دردمندوں کے دردمند دیکھو اپنا دیس پنجاب
آج میدانوں میں لاشیں پڑی ہیں اور لہوسے بھرگیا چناب
کسی نے پانچوں پانیوں میں آج دیا ہے زہر ملا
اور ان پانیوں سے زمینوں کو کر دیا ہے سیراب
جس میں بجتی تھی پھونک پیار کی وہ بانسری ہو گئی گم
رانجھے کے سارے بھائی آج بھول گئے اسے بجانے کا طریقہ
دنیا پر خون برسا اور قبروں میں بھی لگا ٹپکنے
پیار بھری شہزادیاں آج مزاروں میں بیٹھ کے روئیں
آج تو سب ہی کیدو بن گئے اور حسن و عشق کے چور
آج کہاں سے لائیں ڈھونڈ کے وارث شاہ ایک اور

Advertisements

6 Responses to “اج آکھاں وارث شاہ نوں”

  1. Asma said

    Assalamoalaykum w.w.!!

    I don’t know whether i have read it or listened it … i think latter is true … but it’s a remarkable piece i’ve ever listened to it in punjabi posetry and plus the emotions and feelings. Its written by amrita preetam that i come to know today.

    BTW, I thought she has died ages ago … she was alive till 1 day back, that I came to know yesterday through newspaper!

    Wassalam

  2. اجمل said

    Ms Asma
    You are right. You may have listened to it. It used to be played on radio after 1970s. Another poem of Amrita Preetam was played on radio in those days "ik boota ambi da . ker saday lga ni”

  3. Asma said

    yeah, i’ve heard this one too … !

  4. Paul said

    This poem was written by Prof. Mohan Singh and not by Amrita Pritam. It is possible that Amrita Pritam recited it somewhere.

    Amrita Pritam died recently.

    Paul

  5. banjaran said

    Amrita Pritam was great Poetess. Her poetry carries a message of love and universality of the human race. Amrita is one of the most important name in Punjabi poetry.
    I like Bhagat Kaber too. Plesae write something about his life or any his work.
    thank you sir
    Banjaran

  6. اجمل said

    پال صاحب
    میرے بلاگ پر تبصرہ کا شکریہ ۔ ہاں میں نے امریتا کی وفات کا اخبار میں پڑھا تھا ۔ میں آپ کی رائے سے متفق ہونے سے قاصر ہوں ۔ میں نے یہ نظم پہلی بار آدھی صدی سے زائد پہلے کسی رسالے میں امریتا پریتم کے نام کے ساتھ پڑھی تھی اور اپنی ڈائری میں لکھ لی تھی ۔ دوسرے میرے پاس پروفیسر موہن سنگھ کی نظموں کا مجموعہ انگریزی سکرپٹ میں موجود ہے ۔ اس میں یہ نظم شامل نہیں ہے ۔ پروفیسر صاحب کی جو نظم بہت مشہور ہوئی وہ ہے ” اک بوٹا امبی دا ۔ گھر ساڈھے لگا نی ”

    اُمید ہے آپ رابطہ جاری رکھیں گے اور مجھے ادبی دنیا سے روشناس کراتے رہیں گے ۔

    بنجارن صاحب یا صاحبہ
    میرے بلاگ پر تبصرہ کا شکریہ ۔ بنجارن ہے تو مؤنث لیکن آدھی صدی سے زائد پہلے پنجاب کے ایک صوفی مرد شاعر نے لکھا تھا "میں بنجارن اپنے رب دی” اسلئے میں نے صاحب اور صاحبہ دونوں لکھ دیئے ہیں ۔

    میں آپ سے متفق ہوں کہ امریتا پریتم ایک اچھوتی عورت تھی ۔ پنجابی شاعروں میں سلطان باہو ۔ بابا بھلے شاہ ۔ بھگت کبیر اور پروفیسر موہن سنگھ بھی مجھے بہت پسند ہیں ۔ میں بچپن میں ان سب کی نظمیں گایا کرتا تھا ۔ اب مجھے بھول چکی ہیں ۔ کچھ عمر کی وجہ سے اور زیادہ افکارِ زمانہ کی وجہ سے ۔ میں آپ کی خواہش پوری کرنے کی انشاء اللہ پوری کوشش کروں گا ۔ اس میں کچھ وقت لگے گا کیوں کہ کچھ دنوں سے میری صحت ٹھیک نہیں ہے اور محنت نہیں کر سکتا ۔ آپ کو بھگت کبیر کے متعلق جتنا معلوم ہے یا معلوم ہو تو مجھے بذریعہ ای میل بھیج دیجئے ۔ میرے ای میل ایڈرس آپ کو اُوپر عنوان کے نیچے "مجھ سے رابطہ” پر کلِک کر کے مل جائیں گے ۔

    اُمید ہے آپ رابطہ جاری رکھیں گے اور مجھے ادبی دنیا سے روشناس کراتے رہیں گے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: