What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for نومبر, 2005

وہ پندرہ فٹ گہرے پانی میں کود گیا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 29, 2005

پیش لفظ:- واقعہ حقیقی ہے لیکن نام فرضی ہیں ۔

چالیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ جمیل کو اس ادارے کی ملازمت شروع کئے سوا دو سال ہو چکے تھے۔ وہ آفیسرز کلب میں سکواش کھیلنے جاتا تھا ۔ آفیسرز کلب میں ایک سویمنگ پول تھا ۔ نزدیکی کنارے پر پانی 2 فٹ گہرا تھا اور دور والے کنارے کی طرف گہرا ہوتا جاتا تھا حتی کہ آخر میں لمبائی کے 20 فٹ حصّہ میں پانی 15 فٹ گہرا تھا۔ وہاں سپرنگ بورڈ لگے ہوئے تھے ۔ مئی کا مہینہ تھا۔ ایک سینئر آفیسر نے جمیل سے کہا ” آپ سویمنگ پول پر نظر نہیں آئے”۔ جمیل نے بتایا کہ اسے تیرنا نہیں آتا۔ آفیسر نے مسکرا کر کہا "پانی میں جاؤ گے تو تیرنا سیکھو گے نا”۔ دوسرے دن جمیل سویمنگ پول پر پہنچ گیا۔ وہ آفیسر بھی آئے اور انہوں نے دو اچھے تیراکوں طلعت اور جمشید کے ذمّہ کیا کہ وہ جمیل کو تیرنا سیکھائیں۔ محنت کر کے ایک ماہ میں جمیل اس قابل ہو گیا کہ چار ساڑھے چار فٹ گہرے پانی میں چند منٹ تیر لیتا۔ایک دن جمیل سویمنگ پول پر پہنچا تو وہاں اور ابھی کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ شاور لے کر آیا تو دیکھا کہ ایک بارہ تیرا سالہ لڑکے نے سپرنگ بورڈ پر سے اچھل کر چھلانگ لگائی اور کوئی 12 فٹ پانی کی تہہ میں پہنچ کر ہاتھ پاؤں مار نے لگا ۔ جمیل کو احساس ہوا کہ لڑکا ڈوب جائے گا ۔ وہ بھاگتا ہوا دوسرے کنارے پر پہنچا دل میں کہا یا اللہ اسے بچا اور 15 فٹ گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ اتفاق سے وہ سیدھا تہہ تک پہنچا ۔ اس نے اپنے پاؤں سے فرش کو دھکا دیا جس سے وہ تیزی سے اوپر کی طرف اٹھا۔ اوپر آتے ہوۓ اس نے لڑکے کو اوپر کی طرف دھکا دیا ۔ جونہی جمیل کا سر پانی سے باہر نکلا اس نے اچھل کر غوطہ لگایا اور دوبارہ لڑکے کو اوپر دھکیلا۔ اس بار کچھ پانی جمیل کی ناک میں گھس گیا۔ جب جمیل کا سر باہر نکلا تھا تو اسے آوازیں سنائی دی تھیں۔ ” سر۔ ایک دم پیچھے ہٹ جائیں”۔ چنانچہ دوسری بار جمیل کا سر پانی سے باہر نکلا تو وہ کوشش کر کے 4 فٹ دور کنارہ پر لگی سیڑھی تک پہنچا اور سویمنگ پول سے باہر نکل آیا۔

جمیل چند منٹ کھانستا رہا ۔ اس کے بعد اس نے دیکھا کہ ایمبولنس لڑکے کو لے کر جا رہی ہے ۔ ایمبولنس جانے کے بعد طلعت اور جمشید جمیل کے پاس آئے اور کہا "سر۔ یہ آپ نے کیا کیا ؟ آپ کو تیرنا بھی نہیں آتا اور آپ نے گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی” ۔ جمیل بولا "میں لڑکے کو ڈوبتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ اچھا ہوا آپ لوگ پہنچ گئے اور لڑکے کو بچا لیا”۔ طلعت بولا "سر۔ لڑکے کو ہم نے نہیں آپ ہی نے بچایا۔ آپ لڑکے کو پانی کی سطح پر لے آئے تھے۔ ہم نے تو اسے صرف پول سے باہر نکالا "

Advertisements

Posted in آپ بيتی, روز و شب | 2 Comments »

فراغت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 27, 2005

بچپن میں سنا کرتے تھے "خالی بیٹھے شیطان سوجھے”۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت عطا فرماۓ ہمارے اساتذہ کو ۔ انہوں نے ہماری تربیّت بھی کچھ ایسی کی ۔ مجھے نہ تو گلی کی نکّڑ پر کھڑے ہو کر یا پلّی پر بیٹھ کر گپیں ہانکنے کی عادت تھی اور نہ آوارہ گردی کی ۔ اپنا وقت گذارنے کے لئے میں اچھی کتابیں پڑھتا اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھا کرتا تھا ۔ جن پر میرے اساتذہ مجھے شاباش دیا کرتے تھے اور میں خوشی سے پھولا نہ سماتا ۔ کچھ دن پہلے میں اپنے کاغذات پھرول رہا تھا کہ مجھے بچپن کی لکھی ایک کہانی ملی جس پر میرے استاد اتنے خوش ہوۓ تھے کہ صبح دعا کے وقت انہوں نے سارے سکول کے طلباء اور اساتذہ کے سامنے پڑھ کر سنائی تھی ۔ وہ کہانی میں دو دن پہلے بلاگ پر لکھ چکا ہوں ۔

علّامہ اقبال فراغت کے سلسلہ میں کہتے ہیں ۔ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ
میّسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندہء حر کے لئے جہاں میں فراغ

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

جانچا تو دو کوڑی کا نہ نکلا ایمان اپنا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 25, 2005

عبداللہ سوات کے پہاڑوں کی ایک خطرناک ڈھلوان پر چل رہا تھا کہ اس کا پاؤں پھسل گیا ۔ کچھ لڑھکنے کے بعد اس کے ہاتھ میں ایک جھاڑی کی ٹہنیاں آ گئیں اور وہ ان سے لٹک گیا ۔ اس نے نیچے کی طرف جانکا تو نیچے سیدھی ڈھیڑ دو سو فٹ گہری کھڈ دیکھ کر بہت پریشان ہوا ۔ جن ٹہنیوں سے وہ لٹکا ہوا تھا وہ کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتی تھیں ۔ ایک ایک لمحہ بہت بھاری گذر رہا تھا یہاں تک کہ عبداللہ کی گرفت کمزور ہونے لگی ۔
وہ اپنی پوری قوت سے چلّایا ” کوئی ہے ۔ کوئی ہے ۔ بچاؤ بچاؤ ”
اچانک کہیں سے ایک بہت بھلی آواز آئی ۔ ” عبد عبد ۔ سنو عبد ”
عبداللہ نے جلدی سے کہا ” ہاں میں سن رہا ہوں تم کون ہو اور کہاں ہو ؟ ”
جواب آیا ۔ ” میں ہوں تمہارا پیدا کرنے والا تمہارا رب ۔ میں ہر جگہ موجود رہتا ہوں ”
عبداللہ حیرانی سے بولا ۔ ” آپ ۔۔۔ اللہ ۔۔۔ اللہ تعالی ہو ۔ یا اللہ میں وعدہ کرتا ہوں میں اب کبھی کوئی برا کام نہیں کروں گا ۔ ساری زندگی عبادت میں گذار دوں گا ”
آواز آئی ۔ ” حوصلہ کرو عبد پہلے تمہیں بحفاظت اتار لیں پھر آرام سے بات کریں گے ”
عبداللہ بولا ۔ ” مولا کریم پھر جلدی کریں”
آواز آئی ۔ ” میری بات غور سے سنو عبد اور جو کہوں وہ کرو ”
عبداللہ بولا ۔ ” میرے مالک میں سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہوں ”
آواز آئی ۔ ” عبد شاخ کو چھوڑ دو ”
عبداللہ سخت پریشانی میں بولا ۔” کے کے کے کیا آ آ آ آ ؟ ”
آواز آئی ۔ ” ہاں عبد مجھ پر بھروسہ کرو اور بے فکر ہو کر شاخ چھوڑ دو
"کچھ دیر خاموشی رہی اور پھر عبداللہ کی آواز گونجی ۔ ” کوئی ہے ۔ کوئی ہے ۔ بچاؤ بچاؤ "

Posted in روز و شب | 7 Comments »

خوشی صرف امیروں کی میراث ہے ؟ ؟ ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 23, 2005

ضروری نہیں کہ خوش ترین شخص کے پاس ہر نعمت یا ہر آسائش ہوخوشی کا راز یہ ہے کہ انسان اپنی دسترس میں آنے والی چیز سے بھرپور فائدہ اٹھاۓ
اور اللہ کا شکر ادا کرے کیونکہ اگر وہ بھی نہ ملتا تو کیا کرتا

Posted in روز و شب | 7 Comments »

مسلمانوں کی تاریخ بڑی کمزور ہے ؟ ؟ ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 21, 2005

مسلم ہائی سکول میں ہمارے ایک استاد سبغت اللہ قریشی صاحب ایم اے انگلش اور ایم اے سوشل سائنسز تھے ۔ انہوں نے نویں اور دسویں جماعت میں ہمیں تاریخ اور جغرافیہ پڑھایا تھا ۔ نظم وضبط کے بہت پابند اور کلاس میں بہت سنجیدہ رہتے تھے ۔ جس دن تاریخ کی کلاس ہوتی پڑھانا شروع کرنے سے پہلے کہتے ” مسلمانوں کی تاریخ بڑی کمزور ہے” ۔ کسی لڑکے کو پوچھنے کی ہمت نہ پڑی کہ ایسا کیوں کہتے ہیں ۔میٹرک کے نتیجہ کے بعد ہم سکالر شپ حاصل کرنے والے چند لڑکے سکول گئے ۔ سب اساتذہ سے ملے اور مبارکیں وصول کیں ۔ ماسٹر قریشی صاحب نے ہمیں سینے سے لگا لگا کر مبارک باد دی ۔ ایک لڑکے نے ہمت کر کے پوچھا ” ماسٹر صاحب ۔ مسلمانوں کی تاریخ تو بہت اچھی ہے ۔ آپ یہ کیا کہا کرتے تھے”۔ استاد صاحب نے ہنس کر کہا ” نہیں بیٹا یہ بات نہیں جو آپ سمجھے ۔ یہ بات آپ کو بڑے ہو کر خود ہی سمجھ آ جاۓ گی” ۔

مجھے 40 سال قبل جب بات سمجھ میں آئی تو بہت دیر ہو چکی تھی محترم استاد ایک سال قبل 1964 میں اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے تھے ۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ ۔ بات صحیح ہے کہ نہ تو ہم لوگ تاریخ پڑھنے میں دلچسی لیتے ہیں نہ گذری باتیں یاد رکھ کر ان سے کوئی سبق حاصل کرتے ہیں ۔ ہماری پسماندگی کی چند بڑی وجوہ میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے ۔

Posted in روز و شب | 13 Comments »

حشر نشر

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 19, 2005

علامہ اقبال کے شعروں کے ساتھ بہت لوگوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور بعض اوقات اس پسندیدگی نے حشر نشر کی صورت اختیار کی ۔ بہت پرانی بات ہے راولپنڈی میں راجہ بازار کے فوارہ چوک (جہاں کبھی فوارہ بنا دیا جاتا ہے اور کبھی توڑ دیا جاتا ہے) سے لیاقت روڈ پر چلیں تو بائیں طرف ایک ہوٹل ہوتا تھا "علی بابا ہوٹل ۔ آنہ روٹی دال مفت” روپے میں 16 آنے ہوتے تھے اور یہ روٹی آجکل کی پانچ روپے والی کے برابر تھی ۔ اس ہوٹل کی دیوار پر جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے ٹوٹل پر
تو شاہین ہے کر بسیرا علی بابا کے ہوٹل پر

اسی زمانہ میں ایک رسالے میں کارٹون شائع ہوا جس میں لکھا تھا

خودی کو کر بلند اتنا کہ جا پہنچے پہاڑی پر
خدا بندے سے پھر پوچھے دس پترا اترسیں کس طراں

Posted in روز و شب | 6 Comments »

کامیابی کا راستہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 18, 2005

جاننے کے لئے کلک کیجئے

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

محبت کی کنجی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 17, 2005

گھر میں پیار و محبت کی فضا زندگی کی بنیاد ہےاپنے عزیزوں سے اختلاف کی صورت میں
صرف حال کے معاملہ پر ہی نظر رکھیئے
ماضی کی رنجشوں کو بیچ میں نہ لائیے

یاد رکھیئے کہ بہترین تعلقات وہ ہوتے ہیں
جن میں آپس میں ایک دوسرے سے محبت
ایک دوسرے کی ضرورت سے بڑھ جائے

Posted in روز و شب | 4 Comments »

یا اللہ تیرے یہ بندے کدھر جائیں ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 15, 2005

ہمارے ملک میں صرف ایک خود ساختہ زمینی خدا کے نہ صرف اصلی بلکہ مفروضہ تحفظ کے لئے لاکھوں پاکستانی جانوں کو مصیبت میں ڈالا جا سکتا ہے ۔ یہ خود ساختہ خدا ہی پاکستان ہے باقی ہم لوگوں کی قدر اس چارے کے برابر بھی نہیں جو مویشیوں کو ڈالا جاتا ہے ۔ چار پانچ روز قبل اچانک اس خود ساختہ خدا کو احساس ہوا کہ اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ 30000 آدمی پہاڑوں سے اتر کر اسلام آباد کی فضا میں اپنی گھٹیا سانسیں چھوڑ رہے ہیں ۔ اگر زلزلہ آیا ہے تو ان کے گھروں میں آتا رہے مگر میری فضا گندی کرنے کی انہیں اجازت نہیں دے سکتا ۔ میں نے ڈالر اکٹھے کرنے تھے کر لئے میرے ثناخوانوں اور حواریوں نے عمدہ یورپی کمبل اور پکنکیں منانے کے لئے خیمے لینا تھے لے لئے چنانچہ حکم دے دیا گیا کہ نکالو ان کو یہاں سے اور 13 نومبر کو 1000 بے خانماں متاءثرین کو نکال دیا گیا ۔ چند دنوں میں اسلام آباد خالی کرا لیا جاۓ گا ۔ جن مصیبت زدہ زلزلہ کے متاءثرین کا کھانے پینے اور رہائش کا 90 فیصد خرچ راولپنڈی اور اسلام آباد کے عوام اور رفاہی ادارے اٹھا رہے تھے اور دن رات ان کی خدمت میں لگے تھے ۔ برفانی پہاڑوں میں ان بے خانماں لوگوں کا کیا ہو گا اس کی خود ساختہ خدا کو کیا پروا ۔ اقوام متحدہ والے اگر کہتے ہیں کہ سخت سردی سے بے شمار متاءثرین مر جائیں گے تو کہتے رہیں ۔ سوا لاکھ سے زیادہ مر چکے مزید مر جائیں تو پرکیپیٹا انکم (per capita income)میں اضافہ ہو جائے گا اور آقا (امریکہ) سے شاباش ملے گی ۔ کمال تو یہ ہے ان کو واپس پہنچانے کے لئے متاءثرین کا خرچ اٹھانے والے مقامی رفاہی اداروں کو ہی حکم دیا گیا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ پر حکومت کا خرچہ نہ ہو ۔

لاٹھی کی سرکار

نہ ہو کبھی کہیں برباد ۔گھر کسی کا ہو
نہ بے خطا ہو سر دار ۔ سر کسی کا ہو
تڑپ کے جاں نہ دے بے کسی کے عالم میں
جوان لاڈلا ۔ لخت جگر کسی کا ہو
اداس لوگوں پہ اب لاٹھیاں نہ برساؤ
کہ مشتعل نہ دل نوحہ گر کسی کا ہو
یہ سادہ لوح ۔ پہاڑوں کے غمزدہ خوددار
نہ زندگی میں زیاں اس قدر کسی کا ہو
تمام اعضاء سلامت ہیں جن کے وہ سوچیں
نہ ضائع اس طرح دست ہنر کسی کا ہو
ریاض الرحمان ساغر

اب پڑھیئے کچھ حالات حاضرہ اور خبروں کے بارے میں
1 ۔ ” اعزاز” اور احساس محرومی
2 ۔ حکومت کس دردمندی سے زلزلہ زدگان کے دامن تارتار کی بخیہ گری کر رہی ہے

Posted in روز و شب | 2 Comments »

کہا ” کوچ کرو” اور کوچ کر گئے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 12, 2005

حسن اتفاق ۔ ایک غزل بہت معروف ہوئی وہ لکھنے والے کی مشہور غزلوں میں سے آخری بن گئی اور گانے والے کی مشہور غزلوں میں سے بھی آخری ثابت ہوئی ۔ ابن انشاء کی لکھی اور استاد امانت علی کی گائی ہوئی ۔

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو
اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب
جوگی کا ڈگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں
دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوۓ
اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا
زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آۓ ہو
سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں
کیوں بن میں نہ جا بسرا ہم کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے
تو اور کرے دیوانہ کیا

Posted in روز و شب | 4 Comments »