What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

زلزلہ سے متاءثر علاقہ سے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 25, 2005

بٹگرام کی وادی الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں

وادی الائی کے علاقے میں امداد کاموں کے انچارچ کرنل ذکیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر علاقے کی آبادی کو دو تین دنوں میں یہاں سے نہ نکالا گیا تو پچیس سے تیس ہزار لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔

کرنل ذکیر نے بی بی سی کے نامہ نگار وسعت اللہ خان کوبتایا کہ پچھلی ایک رات میں دو ہزار سے ڈھائی ہزار تک جھٹکے محسوس کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات آنے والے جھٹکے ’ آفٹر شاکس‘ نہیں تھے بلکہ آتش فشاں حرکت معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور جب ایک جھٹکا آتا ہے تو اس کے ساتھ دھماکے کی آواز بھی آتی ہے۔ اور یہ آواز اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے توپوں سے گولے داغے جا رہے ہوں۔ کرنل ذکیر نے بتایا کہ انہوں نے اعلی حکام کو سفارش کی ہے کہ وادی الائی میں امدادی کارروائیوں کرنے کی بجائے تمام مکینوں کو یہاں سے فوراً نکال لیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دو تین دنوں میں لوگوں کو وہاں سے نہ نکالا گیا تو شاید پھر ہم کچھ کرنے کی پوزیشن ہی میں نہیں رہیں گے۔ کرنل ذکیر نے کہا لوگوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کے علاوہ اور ذریعہ نہیں ہےبی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق علاقے کی تمام زمینی راستے ختم ہو چکے ہیں اور تین دن کی مشقت سے بنائی جانے والی ایک سڑک رات کے زلزلوں میں پھر تباہ ہو گئی ہے۔ وادئِی الائی پونے دو لاکھ کی آبادی کا علاقہ ہے۔ یہاں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں تین سے چار ہزار افراد ہلاک اور بیس سے بائیس ہزار زخمی ہوئے تھے۔

سرکاری حکام کے مطابق الائی میں اٹھانوے فیصد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں کیونکہ یہ وادی ایسے پہاڑوں سے گِھری ہوئی ہے جہاں گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل زلزلے کی سی کیفیت ہے۔ یہاں آبادی ایک جگہ پر اکٹھی نہیں بلکہ دو دو تین تین مکانوں کی شکل میں پہاڑوں پر پھیلی ہوئی ہے۔یہاں 12 تاریخ سے فوج عالمی امدادی اداروں کے کیمپ موجود ہیں لیکن نوے فیصد آبادی نقطہ انجماد کے نیجے کے درجہ حرارت پر کھلے آسمان تلے راتین گزارنے پر مجبور ہے۔ اگلے چوبیس گھنٹوں میں برف باری کی پیش گوئی اور مسلسل آتش فشانی کیفیت کے پیش نظر وادی کو خطر ناک قرار دے کر آبادی کو کہیں اور منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

تیس لاکھ بےگھر، صرف 30 ہزار خمیے

امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تیس لاکھ بے گھر افراد کو پناہ فراہم کرنے کے لیے اب تک صرف تیس ہزار خیمے پہنچائے جا سکے ہیں جبکہ اس علاقے میں تین لاکھ پچاس ہزار خیموں کی ضرورت ہے۔ مگرامدادی تنظیموں کے مطابق امدادی ہیلی کاپٹروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود اب بھی زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں تک پہنچنا یا وہاں امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ریلیف کو آرڈینیٹر راشد خالیکوف نے کہا ہے کہ زلزلے کے دو ہفتے بعد بھی صرف مظفرآباد میں آٹھ لاکھ افراد بےگھر ہیں ۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں زلزلے کے دوہفتے بعد تک تقریباً دو ہزار دیہات ایسے ہیں جہاں تک مکمل رسائی نہیں ہو سکی ہے اور خدشہ ہے کہ ان دیہات کے رہائشی افراد سخت سردی کا شکار ہو کر ہلاک نہ ہو جائیں۔

امدادی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ زلزلہ زدگان کے لیے عالمی امداد کی فراہمی سست روی کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ریلیف کوارڈینیٹر ارشد خالیکوف نے کہا ہے کہ’ یہ لازم ہے کہ امداد دینے والے ممالک جلد از جلد اس کام میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہمارے پاس چھ ہفتے کا وقت ہے اور ہم نہیں جانتے کہ ہم یہ کام کر پائیں گے بھی یا نہیں ۔ یاد رہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو پانچ بلین ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ عالمی برادری نے اب تک صرف چھ سو بیس ملین ڈالر امداد دی ہے۔

Advertisements

2 Responses to “زلزلہ سے متاءثر علاقہ سے”

  1. Noumaan said

    خیمے وہاں پہنچانے کا کام بہت سست ہے۔ اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اتنی سخت سردی اور بارشوں میں ان علاقوں میں لوگوں کا رہنا بہت مشکل ہوگا انہیں ایسے مقامات پر لانا ہوگا کہ جہاں زیادہ خیمہ بستیاں ہوں اور زیادہ سہولتیں ہوں۔ سعودی عرب میں جو خیمے حج کے دوران لگائے جاتے ہیں کیا وہ اس موسم کی سختی برداشت کرسکتے ہیں اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں سعودی حکومت سے وہ خیمے منگوانا چاہئیے۔

  2. اجمل said

    نعمان صاحب
    آپ ہے ٹھیک لکھا ہے ۔ متاءثرین زلزلہ انتہائی مشکل دور سے گذر رہے ہیں ۔بیس ہزار خیمے صرف امریکی حکومت نے بھیجے ۔ ترکی سعودی عرب اور دوسرے ملکوں نے بھی بھیجے ۔ اس کے علاوہ غیر سرکاری تنظیمیں سینکڑوں خیمے روزان بھیج رہی ہیں ۔ ہمارے جو آدمی امداد لے کر جاتے ہیں وہ بھی حیران ہیں کہ یہ سب خیمے کہاں ہیں ۔
    حج کے دوران منی اور عرافات میں شامیانے لگاۓ جاتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کے ذاتی خیمے بھی ہوتے ہیں ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: