What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

ہاتھ جوڑ کر پاؤں پکڑ کر التجا کرتا ہوں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 11, 2005

انّا للہ و انّا الہہ راجعون ۔ ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جانا ہے ۔ اللہ الرحمان الرحیم ہمارے گناہ معاف کرے اور ہماری مدد فرماۓ آمین ۔مجھ سے شکائت تھی کہ میں کبھی خشک اور کبھی سخت تحاریر لکھتا ہوں ۔ سو میں نے نرم و ملائم اور خوشگوار لکھنے کی کوشش کی ۔ لیکن کیا کروں اپنے ارد گرد کے ماحول اور اس کے اثرات کا ۔ میں تین دن سے اپنے اوپر جبر کر کے چپ بیٹھا تھا ۔ آج فجر کی نماز کے بعد مسجد ہی میں وہ مصنوعی بند ٹوٹ گیا جو میں نے باندھا تھا ۔ قدرتی آفت سے جو کچھ ہوا اس پر آنکھیں برسات برساتی رہیں اور دل خون کے آنسو روتا رہا لیکن لب پر تالا ڈالے رکھا اب قدرتی آفات سے بچ جانے والے بہن بھائیوں اور بچوں کو آفت زدہ علاقہ سے دور بیٹھی اپنی قوم کی بیوقوفیوں کے باعث مرتے ہوۓ نہیں دیکھا جاتا ۔ رات بھر اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرتا رہا کہ میری ریڑھ کی ہڈی میں جو نقص اس سال جنوری میں پیدا ہوا اسے ٹھیک کر دے تا کہ میں اپنی کار میں جتنی خشک تیار خوراک بھر سکوں بھر لوں اور متاءثرین کو پہنچاؤں ۔ شائد میری وساطت سے چند انسانوں میں زندگی باقی رہے ۔

اسلام آباد سے لے کر کراچی تک سب (بمع ان اداروں کے جن کے لئے میں کام کر رہا ہوں) خیمے اور دوائیاں اکٹھی کر رہے ہیں ۔ شائد ایدھی ٹرسٹ کا کفن اکٹھے کرنا صحیح قدم ہے کیونکہ قدرتی آفات میں دب کے مرنے والوں کو تو کفن پہنانا فرض نہیں جب خدانخواستہ قدرتی آفات سے بچ جانے والے تین لاکھ افراد بھوک سے مر جائیں گے تو کفنوں کی ضرورت پڑے گی ۔

پیر مورخہ 10 اکتوبر کی شام تک آزاد جموں کشمیر کے متاثرین کو کچھ کھانے کے لئے نہیں ملا ۔ وہ سب ہفتہ 8 اکتوبر کی سحری کے بعد سے بھوکے ہیں اور ہم سب صرف امداد اکٹھا کرنے میں لگے ہیں اور بہت خوش ہیں کہ ڈھیر لگ گئے ہیں ۔ابھی تو امداد پہنچنے کی صرف باتیں ہی ہیں اگر یہ امداد پہنچ بھی گئی تو تین لاکھ متاثرین کے لئے اونٹ کے منہ میں ذیرہ سے بھی کم ہو گی ۔

میرے محترم و مکرم حضرات اور خواتین ۔ ابھی فوری طور پر رس (جنہیں کراچی میں پاپے کہتے ہیں) ۔ بسکٹ ۔ بھنے ہوۓ چنے ۔ کھجوریں ۔ خشک دودھ اور اسی طرح کی غذائی اشیاء فوری طور پر متاءثرہ علاقہ میں پہنچائیں ۔ اور آٹا ۔ چاول ۔ چینی ۔ گھی وغیرہ خریدنا شرو‏ع کردیں اور ساتھ وہ بھی بیجھیں ۔

میری سب سے درخواست ہے کہ میری اس التجا کو اپنی بنا کر اپنے تمام جاننے والوں تک پہنچا دیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالی آپ کی مدد فرماۓ آمین

Advertisements

4 Responses to “ہاتھ جوڑ کر پاؤں پکڑ کر التجا کرتا ہوں”

  1. Khawab said

    Salam
    hope ur family and u r in best of ur health….and safe….
    sayad hum Allah se es kadar dur ho gahe hain ke humain Kuda ko yaad dalana para ke tum loogon ne mera hi paas ana hai……
    Allah humari kohtahiyan maaf kare…
    aur apni emaan main rakeh…do remember ma family in ur prayers
    Salam

  2. Salam sir I have linked your contact at my blog page.

    Zaroorat jaldi karne ki haey kiun ke har ghuzarta hwua lambha mutasreen keliya bhari haey

  3. اجمل said

    صاحب خواب صاحب
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔ نیک خواہشات کا شکریہ ۔ آللہ آپ کے خاندان اور سب مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔

    ڈاکٹر افتخار راجہ صاحب
    آپ نے ٹھیک کہا ۔ اللہ کا شکر ہے اب امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے ۔

  4. اجمل said

    Dr Iftikhar Raja
    Thank you. Of course every moment that passes is wasted.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: