What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for اکتوبر, 2005

ہم کیا کر رہے ہیں ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 30, 2005

یہاں کلک کر کے پڑھیئے اور اپنا محاسبہ کیجئے کہ کیا ہم قدرتی آفات کے نتیجہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں ؟

Advertisements

Posted in روز و شب | 1 Comment »

زلزلہ سے متاءثرہ علاقہ کی ایک جھلک ۔ اعجاز آسی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 29, 2005

اعجاز آسی صاحب دس دن زلزلہ سے متاءثرہ علاقہ میں گذارنے کے بعد ایک دن کے لئے اسلام آباد آئے تھے اور پھر متاءثرہ علاقہ میں چلے گئے ہیں ۔ ان کے بالکل مختصر تاءثرات انہی کے الفاظ میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے ۔

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

ترقی یافتہ روشن خیال جنہیں دہشت گرد کہتے ہیں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 28, 2005

>جہادی تنظیمیں زلزلے کے خلاف ’جہاد‘ میں مصروف

صدر پرویز مشرف نے بیس اکتوبر کو یہ کہا تھا کہ حکومت نے زلزلہ زدہ علاقوں میں جہادی تنظیموں کے فلاحی کام پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے تاہم وہ مصیبت کی اس گھڑی میں کالعدم یا واچ لسٹ پر موجود تنظیموں کو مصیبت زدگان کی مدد سے نہیں روکیں گے۔

صدر کے اس بیان سے جہاں حکومت کی تشویش کا اندازہ ہوتا ہے وہیں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فوج اور حکومت کی جانب سے زلزلہ زدگان کی فوری اور موثر امداد میں سست روی کا خلا جہادی تنظیمیں خاصے موثر انداز میں پر کر رہی ہیں اور اس کام میں دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں ان تنظیموں کی جہادی سرگرمیوں کا سولہ سالہ تجربہ اور نیٹ ورک خاصا مددگار ثابت ہورھا ہے۔

مثلاً جماعت الدعوہ ( سابق لشکرِ طیبہ) کے نیٹ ورک کو ہی لے لیں جو زلزلہ زدہ علاقوں میں غالباً سب سے منظم ڈھانچوں میں شامل ہے۔اس وقت جماعت الدعوہ کے کوئی ایک ہزار کل وقتی اور سینکڑوں جز وقتی رضاکار امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

مجھے مانسہرہ میں جماعت کے مرکزی ریلیف کیمپ میں جانے کا موقع ملا۔تین گوداموں کے علاوہ کیمپ کے کھلے حصے میں کپڑوں، گدوں اور کمبلوں کا ایک پہاڑ سا ہے۔اسی کیمپ سے تمام متاثرہ علاقوں تک امدادی رسد بھیجی جاتی ہے۔

مظفرآباد اور نیلم ویلی کے وہ علاقے جہاں فی الحال ہیلی کاپٹروں تک رسائی ہے، جماعت پہاڑوں پر پھنسے ہوئے متاثرین تک سامان پہنچانے اور زخمیوں کو نیچے لانے کے لئے ایک سو خچر استعمال کررہی ہے۔بالخصوص کشمیر کے علاقے پتیکا، سری کوٹ اور شہید گلی کے دشوار پہاڑی علاقوں میں خچر سروس کے زریعے اب تک بیس ٹن رسد پہنچائی جا چکی ہےاور جن علاقوں میں خچر استعمال نہیں ہوسکتے وہاں پر رضاکار دو ڈنڈوں کے درمیان رسیاں یا گدے جوڑ کر بنائے جانے والے سٹریچروں کی مدد سے زخمیوں کو نیچے لا رہے ہیں۔

اسکے علاوہ کشمیر میں دھن مائی کے علاقے کے تئیس کٹے ہوئے دیہاتوں سے زخمیوں اور متاثرین کو لانے کے لئے گذشتہ دو ہفتوں سے موٹر بوٹ سروس جاری ہے۔اس موٹربوٹ سروس سے اب تک پچاس ٹن امدادی سامان دریائے جہلم کے پار مظفر آباد سے کٹے ہوئے دیہاتوں تک پہنچایا جا چکا ہے۔

ستائیس اگست کو جب میں مظفر آباد میں جماعت الدعوہ کے قائم کردہ فیلڈ ہسپتال پہنچا تو آغاخان ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک بتیس رکنی ٹیم انڈونیشیا کی میڈیکل ٹیم کی جگہ لے رہی تھی۔اس فیلڈ ہسپتال میں دو سرجیکل یونٹ ہیں جن میں ایک سو بیس بڑے آپریشن کئے جاچکے ہیں۔ان میں برین سرجری سے لے کر ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن تک شامل ہیں۔جبکہ اب تک ساڑھے تین ہزار چھوٹے آپریشن ہوچکے ہیں۔

اس فیلڈ ہسپتال کے قریب ایک گودام میں جو اشیائے خوردونوش بھری ہوئی تھیں ان میں خوراک کے سینکڑوں ڈبے ایسے بھی تھے جن پر یو ایس اے لکھا ہوا تھ۔یہ امریکہ کی حکومت کا عطیہ ہیں۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ یہ امریکی رسد عالمی ادارہِ خوراک کے توسط سے جماعت کو متاثرین میں تقسیم کرنے کے لئے دی گئی ہے۔

جماعت الدعوہ کا کہنا ہے کہ اس نے مختلف زلزلہ زدہ علاقوں میں پانچ پانچ سو خیموں کی چھ عارضی بستیاں قائم کررہی ہے جن میں متاثرین کو کم ازکم چھ ماہ تک رکھا جائے گا۔اسکے علاوہ متاثرین کو ایک ہزار گھر تعمیر کرنے کے لئے سامان بھی فراہم کیا جارھا ہے۔

کالعدم جیشِ محمد کے کارکن الرحمت ٹرسٹ کے نام سے متاثرین کو خوراک، کپڑے اور ادویات پہنچا رہے ہیں۔الرحمت ٹرسٹ کے بڑے ریلیف کیمپ ہری پور اور بالا کوٹ سے ذرا پہلے بسیاں کے مقام پر ہیں۔ میں نے بالا کوٹ سے آگے سفر کے دوران اس ٹرسٹ کے رضاکاروں کی پیدل میڈیکل ٹیمیں بھی دیکھیں۔

یہ ٹیم بنیادی طور پر فرسٹ ایڈ کے سامان سے مسلح دو دو رضاکاروں پر مشتمل ہوتی ہے اور پہاڑی راستوں پر نیچے آنے والے زخمیوں کو سڑک کے کنارے فرسٹ ایڈ دیتی نظر آتی ہیں۔جبکہ مظفر آباد میں جیش کا ریلیف کیمپ متاثرین کو خوراک اور ضروریات کی دیگر چیزیں فراہم کررھا ہے۔

بالا کوٹ کے نزدیک بسیاں کے ریلیف مرکز میں جب میں نے الرحمت ٹرسٹ کے کیمپ انچارج سے دیگر علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں کی تفصیلات جاننا چاہیں تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ وہ اسکی تشہیر فی الحال مناسب نہیں سمجھتے۔

اسی طرح حزب المجاہدین بھی ریلیف کے کاموں میں جٹی ہوئی ہے۔مظفر آباد میں حزب کے کارکن متاثرین کے لئے ایک بڑا لنگر چلارہے ہیں۔جبکہ خیمہ بستیاں بنانے کے سلسلے میں وہ جماعتِ اسلامی کے ذیلی ادارے الخدمت کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔تاہم میں نے صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں میں بظاہر حزب کی ریلیف سرگرمیاں نہیں دیکھیں۔

ایک اور تنظیم البدر مجاہدین الصفہ فاؤنڈیشن کے نام سے سرگرم ہے۔بالاکوٹ میں جتنا بڑا اسکا کیمپ ہے اتنا ہی بڑا بینر بھی ہے۔یہاں کوئی ایک سو رضاکار متاثرین کو خوراک پہنچانے اور زخمیوں کو نیچے لانے کا کام کررہے ہیں۔

البدر کے مردان سے آئے ہوئے پچاس کارکنوں نے بالاکوٹ کے علاقے میں ملبے میں دبی ہوئی لاشیں نکالنے میں بھی خاصی مدد کی۔ اسکے کارکن دو دو دن کی پہاڑی مسافت طے کرکے متاثرین تک رسد پہنچا رہے ہیں۔ کیمپ انچارج شیخ جان عباسی کے بقول کام اتنا ہے کہ ’ہمیں نہانے دھونے کی بھی فرصت نہیں اور ہمارے کپڑوں میں جوئیں پڑ چکی ہیں۔

شیخ جان عباسی جو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی تین برس تک مسلح کاروائیوں میں شریک رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ انکے کارکنوں کی سخت جان جہادی تربیت زلزلے کے متاثرین کو دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں امداد پہنچانے میں خاصی کام آ رہی ہے۔

میں نے پوچھا کہ بندوق کی جگہ پھاوڑا ہاتھ میں پکڑنا کیسا لگ رھا ہے۔شیخ جان عباسی کا جواب تھا کہ انہوں نے بندوق بھی لوگوں کی مدد کے لئے اٹھائی تھی اور اب پھاوڑا بھی اسی مقصد کے لئے پکڑا ہے۔’وہ بھی جہاد تھا یہ بھی جہاد ہے۔
میں نے پوچھا حکومت کی جانب سے کوئی وارننگ ملی۔کہنے لگے کہ آج ہی پولیس نے ایک فارم بھرنے کو دیا ہے کیونکہ حکومت ہماری فلاحی سرگرمیوں کی تفصیلات جاننا چاہتی ہے۔ اسکے علاوہ ابھی تک کچھ اور مطالبہ سامنے نہیں آیا۔

الرشید ٹرسٹ جو اسوقت امریکی واچ لسٹ پر ہے اسکی ایمبولینسیں بھی متاثرہ علاقوں میں مستقل متحرک ہیں۔بالاکوٹ کے قریب قائم الرشید کیمپ کے انچارج عبدالسلام نے بتایا کہ انکے رضاکاروں نے وادی کاغان کے اب تک کٹے ہوئے علاقوں میں کوئی ڈھائی ہزار خاندانوں کو پیدل راشن پہنچایا ہے۔جبکہ ایک ہزار زخمیوں کا علاج کیا گیا ہے۔

تاہم جوں جوں زلزلہ زدہ علاقوں میں حکومت اور فوج کی امدادی گرفت مضبوط ہورہی ہے ان جہادی تنظیموں پر کڑی نظر رکھنے کا کام بھی شروع ہوگیا ہے۔

الرشید ٹرسٹ کیمپ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ فوجی حکام نے انہیں بٹل کے علاقے میں دو خیمہ بستیاں قائم کرنے سے روک دیا اور ٹرسٹ کے بینرز بھی انتظامیہ نے اتار دئیے۔تاہم کاغان کے علاقے میں فوج کو اس تنظیم کے کام پر فی الحال کوئی اعتراض نہیں کیونکہ یہ وادی اب تک مواصلاتی طور پر باقی ملک سے منقطع ہے۔

یہ تضاد آپ کو اور کئی شکلوں میں بھی نظر آسکتا ہے مثلاً یہی کہ متاثرہ علاقوں کے اوپر امریکی چنوک ہیلی کاپٹر پروازیں بھر رہے ہیں اور نیچے جہادی تنظیمیں کوشاں ہیں اور دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔

Posted in روز و شب | 1 Comment »

پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 26, 2005

میں اپنا پہلا بلاگ "یہ منافقت نہیں ہے کیا ؟ ۔ Hypocrisy Thy Name … انگریزی میں لکھا کرتا تھا ۔ جب اردو عام ہوئی تو میں نے یہ دوسرا بلاگ اردو میں شروع کیا ۔ پھر میں نے اپنے پہلے بلاگ میں بھی اردو لکھنا شروع کر دی ۔اس ماہ مجھے کچھ ای میلز آئیں کہ آپ کے بلاگ پر جاتے ہیں مگر اردو نہ جانتے ہوۓ پڑھ نہیں سکتے ۔ اس پر میں نے سائٹ میٹر کھولا تو معلوم ہوا کہ پاکستان اور بھارت کے علاوہ قارئین کا تعلق امریکہ ۔ کینڈا ۔ افریقہ ۔ سعودی عرب ۔ فلسطین ۔ کویت ۔ ترکی ۔ فرانس ۔ جرمنی ۔ برطانیہ ۔ ایران ۔ افغانستان ۔ سنگا پور ۔ ہانگ کانگ ۔ کوریا اور آسٹریلیا سے ہے ۔

سو میں نے اپنے پہلے بلاگ پر پھر سے انگریزی لکھنے کا فیصلہ کیا ہے مگر اردو بھی ساتھ چلے گی ۔ چنانچہ اردو سیّارہ کی پالیسی کے تحت اب میرا پہلا بلاگ آپ کو اردو سیّارہ پر صرف اس وقت نظر آۓ گاجب میں اس میں اردو لکھوں گا ۔

انگریزی میں بھی انشاء اللہ دلچسپ باتیں لکھی جائیں گی ۔ صرف آپ کو میرے بلاگ پر جانے کی زحمت گـوارہ کرنا پڑے گی جس کے لئے معذرت پیشگی ۔”

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

زلزلہ سے متاءثر علاقہ سے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 25, 2005

بٹگرام کی وادی الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں

وادی الائی کے علاقے میں امداد کاموں کے انچارچ کرنل ذکیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر علاقے کی آبادی کو دو تین دنوں میں یہاں سے نہ نکالا گیا تو پچیس سے تیس ہزار لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔

کرنل ذکیر نے بی بی سی کے نامہ نگار وسعت اللہ خان کوبتایا کہ پچھلی ایک رات میں دو ہزار سے ڈھائی ہزار تک جھٹکے محسوس کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات آنے والے جھٹکے ’ آفٹر شاکس‘ نہیں تھے بلکہ آتش فشاں حرکت معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور جب ایک جھٹکا آتا ہے تو اس کے ساتھ دھماکے کی آواز بھی آتی ہے۔ اور یہ آواز اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے توپوں سے گولے داغے جا رہے ہوں۔ کرنل ذکیر نے بتایا کہ انہوں نے اعلی حکام کو سفارش کی ہے کہ وادی الائی میں امدادی کارروائیوں کرنے کی بجائے تمام مکینوں کو یہاں سے فوراً نکال لیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دو تین دنوں میں لوگوں کو وہاں سے نہ نکالا گیا تو شاید پھر ہم کچھ کرنے کی پوزیشن ہی میں نہیں رہیں گے۔ کرنل ذکیر نے کہا لوگوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کے علاوہ اور ذریعہ نہیں ہےبی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق علاقے کی تمام زمینی راستے ختم ہو چکے ہیں اور تین دن کی مشقت سے بنائی جانے والی ایک سڑک رات کے زلزلوں میں پھر تباہ ہو گئی ہے۔ وادئِی الائی پونے دو لاکھ کی آبادی کا علاقہ ہے۔ یہاں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں تین سے چار ہزار افراد ہلاک اور بیس سے بائیس ہزار زخمی ہوئے تھے۔

سرکاری حکام کے مطابق الائی میں اٹھانوے فیصد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں کیونکہ یہ وادی ایسے پہاڑوں سے گِھری ہوئی ہے جہاں گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل زلزلے کی سی کیفیت ہے۔ یہاں آبادی ایک جگہ پر اکٹھی نہیں بلکہ دو دو تین تین مکانوں کی شکل میں پہاڑوں پر پھیلی ہوئی ہے۔یہاں 12 تاریخ سے فوج عالمی امدادی اداروں کے کیمپ موجود ہیں لیکن نوے فیصد آبادی نقطہ انجماد کے نیجے کے درجہ حرارت پر کھلے آسمان تلے راتین گزارنے پر مجبور ہے۔ اگلے چوبیس گھنٹوں میں برف باری کی پیش گوئی اور مسلسل آتش فشانی کیفیت کے پیش نظر وادی کو خطر ناک قرار دے کر آبادی کو کہیں اور منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

تیس لاکھ بےگھر، صرف 30 ہزار خمیے

امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تیس لاکھ بے گھر افراد کو پناہ فراہم کرنے کے لیے اب تک صرف تیس ہزار خیمے پہنچائے جا سکے ہیں جبکہ اس علاقے میں تین لاکھ پچاس ہزار خیموں کی ضرورت ہے۔ مگرامدادی تنظیموں کے مطابق امدادی ہیلی کاپٹروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود اب بھی زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں تک پہنچنا یا وہاں امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ریلیف کو آرڈینیٹر راشد خالیکوف نے کہا ہے کہ زلزلے کے دو ہفتے بعد بھی صرف مظفرآباد میں آٹھ لاکھ افراد بےگھر ہیں ۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں زلزلے کے دوہفتے بعد تک تقریباً دو ہزار دیہات ایسے ہیں جہاں تک مکمل رسائی نہیں ہو سکی ہے اور خدشہ ہے کہ ان دیہات کے رہائشی افراد سخت سردی کا شکار ہو کر ہلاک نہ ہو جائیں۔

امدادی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ زلزلہ زدگان کے لیے عالمی امداد کی فراہمی سست روی کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ریلیف کوارڈینیٹر ارشد خالیکوف نے کہا ہے کہ’ یہ لازم ہے کہ امداد دینے والے ممالک جلد از جلد اس کام میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہمارے پاس چھ ہفتے کا وقت ہے اور ہم نہیں جانتے کہ ہم یہ کام کر پائیں گے بھی یا نہیں ۔ یاد رہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو پانچ بلین ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ عالمی برادری نے اب تک صرف چھ سو بیس ملین ڈالر امداد دی ہے۔

Posted in روز و شب | 2 Comments »

ٹھٹھا مذاق

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 24, 2005

سورۃ 49 الحجرات آیۃ 11 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ آپس میں ایک دوسرے پہ طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے ۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں ۔

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

معیشت اور تکبّر

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 23, 2005

معیشت

سورۃ 25 الفرقان آیۃ 67 ۔ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل ۔ بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔

فخر و تکبّر

سورۃ 31 لقمان آیۃ 18 اور 19 ۔ اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر۔ نہ زمین میں اکڑ کر چل ۔ اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا ۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ ۔ سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے ۔

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

ہماری امداد کریں ناں۔۔۔

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 21, 2005

میرا نام صبا ہے۔ میں نویں جماعت میں پڑھتی ہوں۔ میری عمر اب چودہ سال ہے۔ اس زلزلے میں میرے امی ابو دونوں کا انتقال ہو گیا۔ ہم دو بہنیں ہیں۔ لاوارث ہیں۔ بس یہاں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہاں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ ابھی بچے رو رہے تھے، بھوکے ہیں سب۔ ہمیں کچھ مدد نہیں دے رہے۔ ایک گاوں میں رہنے والے دہات والوں کو ایک ٹینٹ دے دیتے ہیں، اور کہتےہیں کہ بس سب کو دے دی امداد۔ اس وقت میرے آس پاس بہت سارے بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ سارا دن یہ بچے یوں ہی بیٹھے رہتے ہیں۔ کبھی کھانا مانگتے ہیں، کبھی روتے ہیں۔ سردی بھی بہت رہتی ہے۔ کچھ بچوں کو نمونیا ہو گیا ہے۔ تین، چار، پانچ سال کے چھوٹھ چھوٹے بچے ہیں جنہیں سردی کی وجہ سے نمونیا ہو گیا ہے۔ سارے جانور اور مویشی بھی مکانوں کے نیچے دب کر مر گئے۔ہماری امداد کریں ناں۔۔۔

یہ جو جہاز وغیرہ ہیں، یہ ہمارے سامنے فوجی رہتے ہیں ان کی مدد کرتے ہیں ، ادھر جا کر بیٹھتے ہیں ۔ ہمیں کچھ نہیں دیتے ۔ پل
بھی جو تھا ، دریا نیلم کے اوپر، وہ بھی گر گیا ۔ ہماری کچھ مدد کریں ناں۔۔۔

Posted in روز و شب | 4 Comments »

امدادی سامان جل کر راکھ ہو گیا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 21, 2005

کراچی کے سٹی ریلوے سٹیشن پر زلزلے کے متاثرین کے لیے بھیجے جانے والے سامان میں آگ بھڑک اٹھی جس سے سارا سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ سندھ بوائز اسکاؤٹ کی جانب سے کیمپ لگا کر یہ سامان جمع کیا گیا تھا جو ریل کے ذریعے راولپنڈی روانہ کیا جانا تھا۔ سٹی ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ دوپہر کو ریل کی بوگی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد پوری بوگی جل گئی۔ پولیس کے مطابق بوگی میں زلزلے زدگان کے لیے بستر، لحاف، کھانے پینے کی اشیا اور دیگر سامان موجود تھا۔ اس کے علاوہ اس سامان میں ماچس کے پیکٹ بھی تھے جن کے جل جانے سے آگ نے اور زور پکڑ لیا۔

ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ ریلوے کی جانب سے یہ بوگی مفت میں سندھ اسکاوّٹس کو فراہم کی گئی تھی۔

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

زلزلے یا ہزاروں ایٹم بم اور متاءثرین کے شب و روز

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 20, 2005

ميں نے آزاد جموں کشمیر اور صوبہ سرحد کے ساتھ اسلام آباد میں 15 اکتوبر رات 12 بج کر 37 منٹ 42 سیکنڈ تک آنے والے رخٹر سکیل پر 4 سے زیادہ شدت والے زلزلوں اور جھٹکوں (آفٹر شاکس) کا ریکارڈ پیش کر دیا تھا ۔ اس کے بعد مزید مندرجہ ذیل زلزلے آۓ ۔رخٹر سکیل پر 4 سے کم شدت کے بھی کئی زلزلے آئے مگر ان کا ریکارڈ نہیں ہے ۔

15 اکتوبر

صبح 9 بج کر 24 منٹ 6 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 5 اعشاریہ 1 شدت کا
صبح 9 بج کر 32 منٹ 21 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 5 شدت کا
صبح 11 بج کر 52 منٹ 14 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 4 اعشاریہ 4 شدت کا

17 اکتوبر

صبح 3 بج کر 5 منٹ 33 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 4 اعشاریہ 3 شدت کا
بعد دوپہر 3 بج کر 43 منٹ 8 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 5 اعشاریہ 1 شدت کا

18 اکتوبر

رات 11 بج کر 32 منٹ 3 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 4 اعشاریہ 5 شدت کا

19 اکتوبر

رات 2 بج کر 20 منٹ پر رخٹر سکیل پر 4 اعشاریہ 5 شدت کا
رات 2 بج کر 20 منٹ 6 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 5 اعشاریہ 3 شدت کا
صبح 7 بج کر 33 منٹ 30 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 5 اعشاریہ 8 شدت کا
صبح 8 بج کر 16 منٹ 22 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 5 اعشاریہ 4 شدت کا
بعد دوپہر 5 بج کر 47 منٹ 28 سیکنڈ پر رخٹر سکیل پر 5 اعشاریہ 2 شدت کا

کچھ خبریں

جھٹکوں یا آفٹر شاکس کے علاوہ 80 زلزلے بھی آۓ

کراچی یونیورسٹی کے جیالوجسٹ ڈاکٹر نیئر ضیغم نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں اتنے شدید زلزلے کی وجہ زمین کی سطح سے صرف دس سے بیس کلو میٹر کی گہرائی پر توانائی کی بڑی مقدار کا اخراج تھا ۔ پاکستان میں اکتوبر کی آٹھ تاریخ کو سات عشاریہ آٹھ اور اس کے بعد چھ عشاریہ چار کی شدت سے آنے والے دو زلزلوں میں جتنی توانائی خارج ہوئی ہے وہ ایک میگا ٹن کے ساٹھ ہزار ایٹم بموں کے دھماکوں کے برابر تھی۔ انہوں نے کہا کہ اتنے شدید زلزلے نے ایک ڈگری سکوائر کے علاقے میں دوسری فالٹ لائنز کو بھی متحرک کر دیا ہے اور ماضی میں غیر متحرک یا سوئی ہوئی فالٹ لائنز بھی زلزلوں کا باعث بن رہی ہیں ۔

ڈاکٹر نیئر نے کہا کہ پندرہ تاریخ تک اس علاقے میں پچہتر زلزلے ریکارڈ کیے گئے جن کو سائنسی اصطلاح میں آفٹر شاک یا جھٹکے کہنا ٹھیک نہیں بلکے یہ علیحدہ علیحدہ زلزلے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ماہرین کا خیال یہی تھا کہ یہ بڑے زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکے ہیں لیکن اس زلزلوں کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ الگ الگ زلزلے تھے اور کسی ایک جگہ نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہ ہمالیہ پہاڑیوں کے تھرسٹ سسٹم میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہے۔

متاءثرین کے شب و روز

بی بی سی کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے کے باعث ہزاروں خاندان پاکستان کے مختلف شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں۔ یہ خاندان یا تو اپنے طور پر رہ رہے ہیں یا حکومت کی طرف سے قائم چند خیمہ بستیوں میں رہائش پذیر ہیں یا وہ اسلام آباد میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعمیر کیے گئے فلیٹس میں رہتے ہیں ۔ یہ فلیٹس اسلام آباد میں آبپارہ میں واقع ہیں ۔ ایسے ہی ایک مقام پر بہت سے بچے ڈھیر میں سے کپڑے تلاش کر رہے تھے۔ ایک بچی نے کہا کہ اس کو کچھ نہیں ملا۔ ایک بچہ ہنستےہوئے بولا کہ اس کو ایک جیکٹ مل گئی لیکن وہ اسے چھوٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کو یہ کپڑے پسند نہیں ہیں اور یہ سارے بچے کھلکھلاتے ہوئے بیک آواز بولے کہ یہ لنڈا بازار ہے۔

ایک فلیٹ میں مقیم مظفرآباد کے رہائشی ہلال پیرزادہ کا کہنا ہے کہ یہ کپڑے پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے بھیجے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑی خوبصورتی سے پیک کیے گئے تھے لیکن جب ان کو کھولا گیا تو اندر سے پھٹے پرانے کپڑے نکلے جو بالکل ناکارہ اور ناقابل استعمال تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ کشمیری اس مشکل حالات میں بھی اس سے کئی بہتر چیزیں عطیے میں دے سکتے ہیں۔

لگ بھگ تین سو فلیٹس میں کچھ دنوں سے مقیم چھ سات سو خاندان خاصی مشکل زندگی گذار رہے ہیں۔

ایک فلیٹ میں مقیم مظفرآباد کی خاتون نبیلہ حبیب کا کہنا ہے کہ ان کے تین خاندان دو کمروں کے فلیٹ میں رہتے ہیں اور گزر اوقات کر رہے ہیں۔ یہ زندگی نہیں ہے۔ ‘کہاں اپنا گھر اور گھر کا آرام اور کہاں یہ’۔ انہوں نے جذباتی ہو کر کہا کہ ان کے پرانے گھر کا سٹور ان کمروں سے بہتر تھا جس میں وہ اب سوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم دوسروں کے محتاج ہوگئے ہیں کہ وہ کھانا لائیں گے اور ہم کھائیں گے جب ہمیں شاپر میں پیک کرکے کھانا دیا جاتا ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے پہلے ہم روتے ہیں پھر کھاتے ہیں۔ ہماری عزت نفس مجروح ہورہی ہے ۔ہمیں ساری رات نیند نہیں آتی ہے ہمیں کوئی سکون نہیں ہے’۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیر کو بچوں کی کچھ چیزیں خریدنے کے لیے بازار گئی تو وہاں دوکانیں دیکھ کر انہیں اس لیے رونا آرہا تھا کہ کبھی وہ بھی ایسی ہی دوکانوں کے مالک تھے۔

نبیلہ کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگوں نے ان کی بہت مدد کی لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے شہر میں عزت سے اور ٹھاٹھ سے رہتے تھے لیکن ہم یہاں چوروں کی طرح رہ رہے ہیں’۔

ان فلیٹس میں رہنے والے بےگھر کشمیری اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں ۔

آصفہ جو پیشے کے اعتبار سے ایک استاد ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے تھے لیکن یہاں بچوں کو کوئی سہولت نہیں ہے۔ اب بچوں کا مستقبل کیا ہے، وہ خود گریڈ سولہ کی ملازم ہیں ان کا مستقبل کیا ہے۔ ان کی بہنوں کا کیا مستقبل ہے ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے وہ سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ آصفہ تین بچوں کی ماہ ہیں اور ان کا تعلق بھی مظفرآباد سے ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کب تک وہ اپنے بچوں کو خشک بسکٹ اور ٹھنڈا دودھ دیں گے۔ اس سے بچے بیمار ہوجائیں گے جو آدھے بچے بچ گئے ان کو تو نہ ماریں۔

پروفیسر عبدالمجید کا تعلق بھی مظفرآباد سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ان فلیٹوں میں بجلی، پانی اور گیس میسر نہیں ہے جبکہ یہاں تینوں کے کنکشن پہلے سے ہی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی حکومتی اہلکار نہیں آیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لوگوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر سے ملاقات کرکے انہیں اپنی مشکلات سے آگاہ کیا تھا اور انھوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مسائل حل کریں گے لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔

حکومت نے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں امدادی کام شروع کیا ہے لیکن یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ خاندان کتنے عرصے تک مشکلات کا شکار رہیں گے اور کب ان کی معمول کی زندگی بحال ہوگی۔

Posted in روز و شب | Leave a Comment »