What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

ہم خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا ؟ ؟ ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 23, 2005

ملاحظہ ہو ہمارے روشن خیال حکمرانوں کے اقوال کی سچائی اور ان کا آنے والا روشن خیال تعلیمی نظام ۔
جب شور ہوا تھا کہ بیکن ہاؤس کے سکولوں میں عریاں جنسی سوالنامہ مڈل سکول کے بچوں اور بچیوں میں تقسیم کیا گیا ہے تو ہماری ہمیشہ صحیح اور سچی موجودہ حکومت نے قرار دیا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا یہ دشمن یعنی اپوزیشن کا جھوٹا پراپیگنڈہ ہے بالخصوص دقیانوس اور جاہل ملّاؤں کا ۔ حکومتی اہلکاروں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ آغاخان بورڈ صرف امتحان لےگا اور سلیبس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ۔

کسی نے سچ کہا ہے سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے ۔آغا خان یونیورسٹی کی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز طلعت طیّب جی کے مطابق متذکّرہ بالا سوالنامہ سکولوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ مزید طلعت طیّب جی کے مطابق آغا خان بورڈ ایک ایسا نظام دینے کی کوشش کر رہا ہے جس سے طالب علموں کو سیکھنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مواقع حاصل ہوں ۔طلعت طیّب جی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اردو کے سلیبس کی 32 کہانیوں میں سے عریاں جنسی کہانیاں جیسے پچھم سے چلی پروا اور سعادت حسن منٹو کی کھول دو سمیت سات کہانیاں استانیوں اور استادوں کے احتجاج کے بعد نکال دی گئی ہیں ۔

صورت حال یہ ہے کہ حکومت کے بڑے بڑے اہلکاروں نے سراسر جھوٹ پر جھوٹ بولے ۔ ثابت ہو گیا کہ عریاں جنسی سوالنامہ تقسیم کیا گیا تھا اور بارہویں جماعت تک سلیبس اور تعلیمی نظام بھی آغاخان بورڈ کے سپرد ہے ۔

والدین کے مطابق بقیہ 25 کہانیوں میں سے بھی زیادہ تر محظ عریاں جنسی یعنی پورنو ہیں ۔

کہانیاں صرف اردو کے سلیبس میں شامل کی گئی ہیں اور وہ زیادہ تر عریاں جنسی یعنی پورنو ہیں ۔ انگریزی کے سلیبس میں کوئی کہانی شامل نہیں ۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سب کمسن طلباء اور طالبات کے دماغ کو پراگندہ کیا جائے کیونکہ آغا خان بورڈ کے خیال میں سب بچے شائد انگریزی نہ سمجھ سکیں اور جنسی عریانی سے بچ جائیں اسلئے کہانیاں صرف اردو میں رکھی گئی ہیں جو کہ عریاں جنسی یعنی پورنو ہیں ۔

تفصیل پڑھنے کی لئے یہاں کلک کیجئے اور پڑھئے برگیڈیئر ریٹائرڈ شمس الحق قاضی کا لکھا ہوا اسماعیلی آغاخانی وضاحتیں

Advertisements

5 Responses to “ہم خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا ؟ ؟ ؟”

  1. WiseSabre said

    کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے؟
    آخر کس چیز کا انتظار ہے؟

  2. اجمل said

    Wisesabre
    ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تو کبھی بھی نہیں بیٹھنا چاہیئے ۔ لوگوں کے ساتھ وہی طریقہ اپنانا چاہیئے جو انہیں پسند ہو ۔ انٹرنیٹ موزوں ہے ۔ پہلا کام تو یہ کریں کہ اپنے تمام ان دوستوں کو جن کے پاس انٹرنیٹ ہے ای میل میں اپنے اور میرے بلاگز کے یو آر ایل لکھ کر بھیجیں اور کہیں کہ وہ آپ کا بلاگ اور میرے بلاگ پڑیں ۔ پھر ہمخیال بلاگ والے ڈھونڈیں اور انہیں یہی کہنے کے علاوہ کہیں کہ وہ بھی دین اسلام اور پاکستان کی بہتری کے لئے لکھیں ۔ میں یہی کر رہا ہوں ۔

  3. میں نے اس بارے میں یہ لکھا تھا کافی پہلے۔۔۔۔۔

  4. زکریا said

    قاضی کا مضمون میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ آپ کی پوسٹ میں مڈل سکول کا ذکر ہے جبکہ نوائے وقت ہائی سکول کی بات کرتا ہے۔ پورنو کا لفظ قاضی صاحب نے بہت استعمال کیا مگر جتنا میٹو میں نے پڑھا ہے مجھے کہیں پورنو نظر نہیں آئی۔

    اسی طرح فحش سوالنامہ کی کہانی بھی پلے نہیں پڑی۔ کس چیز نے اسے فحش بنایا؟ کیا اس میں جنسی سوال تھے؟ ان کی نوعیت کیا تھی؟

  5. اجمل said

    شعیب صفدر صاحب
    میں نے آپ کا مضموں پڑھا ۔ آپ نے ٹھیک لکھا تھا ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: