What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

اور اس کی کایا پلٹ گئی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 11, 2005

سب نام فرضی ہیں ۔ آج سے پنتالیس چھیالیس برس پہلے کا واقعہ ہے جب میں انجنئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا۔ ولید ایک لاپرواہ لڑکا تھا۔ سلام کرنا یا شکریہ ادا کرنا اس کا شیوا نہیں تھا ۔ کسی سے کوئی چیز لیتا تو واپس لینے کے لئے اس کے پیچھے پھرنا پڑتا۔ اتنا لاپرواہ کہ بعض اوقات کتاب اس وقت واپس کرتا جب پھٹ جاتی۔ پھر اچانک اس میں تبدیلی آئی جس نے سب کو شش و پنج میں ڈال دیا۔ جب ملتا تو حلیم طبع میں سلام کرتا۔ وہ چیز عاجزی سے مانگتا اور ملنے پر شکریہ ادا کرتا۔ جلدی خود آ کر شکریہ کے ساتھ واپس کرتا۔وقت گزرتا گیا مگر عقدہ نہ کھلا۔ آخر ایک دن ولید کے کچھ دوستوں نے تبدیلی کی وجہ پوچھ ہی لی ۔ ولید کہنے لگا والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کے باعث خاندان کے سب افراد میری ہر خواہش پوری کرتے تھے جس سے میں حیوان بن گیا تھا۔ مجھے جمیل نے انسان بنا دیا۔ جن دنوں اچھی ڈرائینگ شیٹس نہیں مل رہی تھیں مجھے معلوم ہوا کہ سینئر جماعت کے جمیل کو ایک دوکان کا پتہ ہے جہاں سے شیٹس مل سکتی ہیں۔ میں جمیل پاس گیا تو میرے ساتھ جانے کو تیار ہو گیا اور کہا میرا سائیکل کوئی لے گیا ہے اس لئے کل چلیں گے۔ میں نے واپس آ کر ایک دوست کا سائیکل لیا اور پھر جمیل کے پاس گیا تو وہ بیٹھا پڑھ رہا تھا مگر میرے ساتھ چل پڑا ۔

سائیکل پر چڑھتے ہی اتر کر کہنے لگا کہ اس کے پہیئے میں ہوا بہت کم ہے اس لئے سائیکل خراب ہو جائے گا۔ میں نے کہا سائیکل میرے دوست کا ہے تم کیوں فکر کرتے ہو ؟ چلو میرا نیا سائکل تم لے لو اور دوسرا میں چلاتا ہوں مگر جمیل نہ مانا اور کہنے لگا دوسروں کی چیز کی اپنی چیز سے زیادہ دیکھ بھال کرنا چاہیئے۔ خیر ایک کلومیٹر پیدل چل کر سائیکل مرمت کی دکان آئی ہوا بھروائی اور روانہ ہوئے۔ میں سارا راستہ کڑہتا اور دل میں جمیل کو کوستا رہا کہ خواہ مخوا ایک کلومیٹر پیدل چلا دیا۔ واپس آئے اور میں اپنے کمرہ میں آ گیا۔

جمیل کا رویہ بالخصوص اس کے الفاظ ” دوسروں کی چیز کی اپنی چیز سے زیادہ دیکھ بھال کرنا چاہیئے”۔ میرے دماغ پر سوار ہو گئے”۔ میں سوچ میں پڑھ گیا اور کچھ دن بعد احساس ہوا کہ جمیل انسان ہے اور میں جانور ۔ سو میں جمیل کا پیروکار بن گیا تا کہ میں بھی انسان بن جاؤں۔

Advertisements

4 Responses to “اور اس کی کایا پلٹ گئی”

  1. Asma Mirza said

    Well, what he said was very right, one can use his/her own thing even carelessly … but if u r using someelse’s thing u should be very careful about the usage!

    It’s part of one’s manners dont you thinks so?

  2. اجمل said

    If I remove "ye” from Jameel and Put "Alif” in the beginning of the remaining word, then what will be your advice for me ?

  3. Anonymous said

    eeeeeeeeeeeeeehehehheheeheheheeeeehheheheheh eeeeeeeeeeeehhheheheheh eeeehhhhhhhhhhhhe

  4. Anonymous said

    If I remove "ye” from Jameel and Put "Alif” in the beginning of the remaining word, then what will be your advice for me ?

    eeeeeeeeeheeeeeeeeeeeeeehhheheheheh
    eeeheeeehehehehehhheehehheehehehehheeeeeeeeeeeeeehhhhhheehehehhehehheh

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: