What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

ہمارا رویّہ ۔ رسم و رواج ۔ حکومت بے بس یا قانون اور اسلامی قوانین ۔ پانچویں قسط

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 26, 2005

اس موضوع پر پچھلی تحریر پڑھنے کے لئے متعلقہ تاریخ پر کلک کیجئے

23-05-2005
11-06-2005
14-06-2005
20-06-2005
23-06-2005

اسلامی قوانینپورے اسلامی قوانین کا احاطہ کرنا تو میرے بس کی بات نہیں ۔ میں حدود آرڈیننس کے بھی صرف اس حصے پر اظہار خیال کروں گا جس کا تعلق خواتین کے ساتھ بدکاری سے ہے ۔ میں اپنی 23 مئی کی پوسٹ میں حدود آرڈیننس کے متعلق کچھ اظہار خیال کر چکا ہوں ۔ اس کے علاوہ میرے بیٹے زکریا نے اس پر دوسرے زاو یے سے بحث کی ہے ۔ اب میں اس سے آگے چلتے ہوئے اس کے ایک اور پہلو پر بات کروں گا ۔

اسلامی قوانین کے سلسلہ میں سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ ان قوانین کا صحیح اطلاق اس وقت تک مشکل ہے جب تک ملک میں ایک رفاہی یا انصاف پسند حکومت قائم نہیں ہو جاتی ۔ جیسا کہ میں اپنی 23 مئی کی پوسٹ میں واضح کر چکا ہوں ۔ حدود آرڈیننس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس کے صحیح اطلاق میں نہ صرف دوسرے قوانین حائل ہیں بلکہ قانون کے نفاذ کا سارا نظام ہی چوپٹ ہے ۔ تفتیش کے دوران عورت کی جسمانی اور جذباتی کمزوری کا پورا فائدہ جابر یا ظالم کو دیا جاتا ہے اور ریپ کے کیس میں بھی عام طور پر عورت کو مجرم قرار دے دیا جاتا ہے اور یہ پولیس اور قانون دانوں کے شیطانی تعاون سے ہوتا ہے ۔ اسلامی قوانین سے واقفیت نہ رکھنے والے جبر و استبداد کو ختم کرنے کی بجائے اسلامی قوانین میں کیڑے نکالنا آسان سمجھتے ہوئے اسلامی قوانین کی مخالفت پر تل جاتے ہیں ۔

حدود آرڈیننس میں درج چار گواہیوں پر اعتراض کیا جاتا ہے ۔ اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ جیسا کہ میرے بیٹے زکریا نے لکھا ہے ۔ بدکاری کی سزا ایک سو کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا ہے ۔ اتنی سخت سزا کسی اور جرم کی نہیں ۔ اسلام میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل کہا گیا ہے ۔ قاتل کی سزا موت ہے اور اگر مقتول کے وارث از خود معاف کر دیں تو قاتل زندہ رہتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں سنگسار ہونے یا سو کوڑے کھانے والا جس اذیّت سے گذر کر مرتا ہے اس کا اندازہ لگائیے ۔ ہمارے موجودہ معاشرہ پر میں اپنی سابقہ پوسٹس میں روشنی ڈال چکا ہوں ۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ جس طرح کا ہمارا معاشرہ بن گیا ہے اگر یہ پابندی نہ ہوتی تو خود غرض اور جابر مرد ۔ عورتوں پر جھوٹے الزامات لگا کر یا تو انہیں اپنی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے کا کھلونا بنا لیتے یا ان کا جینا مشکل کر دیتے ۔ جو کچھ آجکل کچھ علاقوں میں سردار یا وڈیرے کارو کاری یا مانی کے نام پر یا جرگوں کے فیصلوں سے کر رہے ہیں وہ کھلے عام ملک میں ہر جگہ ہونے لگتا ۔

باقی انشاء اللہ آئیندہ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: