What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

ہمارا رویّہ ۔ رسم و رواج ۔ حکومت بے بس یا قانون اور اسلامی قوانین ۔ چوتھی قسط

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 23, 2005

اس موضوع پر پچھلی تحریر پڑھنے کے لئے متعلقہ تاریخ پر کلک کیجئے

23-05-2005
11-06-2005
14-06-2005
20-06-2005


بقیہ حکومت بے بس یا قانون

پولیس کا نظام جو آج بھی رائج ہے اس لئے بنایا گیا تھا کہ پولیس کے ملازم سرداروں اور وڈیروں کے ٹکڑوں پر پلیں اور ان کی فرمابرداری کریں کیونکہ یہ سردار اور وڈیرے انگریز حاکموں کے خیر خواہ تھے۔ محب وطن اور دیانت دار لوگوں کے خلاف مخبری اور ان کو ایزا رسانی پولیس کے غیر تحریر شدہ فرائض میں شامل تھیں ۔

دیگر ہمارے ہاں واردات کی تفتیش کا جو طریقہ عملی طور پر رائج ہے وہ قانون سے آزاد اور انسانیت کا دشمن ہے ۔ تفتیش کرنے والا پولیس میں ہو یا فوج میں ۔ظلم و تشدّد اور شیطانی عمل سے اپنی مرضی کے بیان پر دستخط کروا لئے جاتے ہیں ۔ اس لئے کوئی شریف آدمی سچ کی حمائت کرتے ہوئے بھی ڈرتا ہے ۔ اسی کی بنا پر مجرم بھی بعد میں عدالت میں یہ بیان دے کر بچ جاتا ہے کہ تشدّد کے ذریعہ اس سے جھوٹے بیان پر دستخط کروائے گئے تھے ۔ مالدار اور بارسوخ لوگ جھوٹے گواہ خرید کر اور پولیس والوں کی جیبیں بھر کر نہ صرف خود جرم کی سزا سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ اپنے پالے ہوئے غنڈوں پر بھی گزند نہیں آنے دیتے ۔تفتیش میں ایک اور بڑا نقص یہ ہے کہ عام طور پر یہ فیصلہ پہلے ہی کر لیا جاتا ہے کہ کس سے کیا بیان لینا ہے اور پھر اسے اس بیان کی ترغیب دی جاتی ہے اور نہ ماننے پر تشدّد کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہماری عدالتوں کے احاطہ کے اندر ہی پیشہ ور گواہ ملتے ہیں ۔ ان کی فیس گواہی کی نوعیت کے مطابق ہوتی ہے ۔ یہ فرضی گواہ اصل گواہوں سے زیادہ طمطراق کے ساتھ بیان دیتے ہیں ۔

کراچی میں ایک بزرگ ایم ایم احسن رہتے ہیں ۔ وہ کسی زمانہ میں انسپکٹر جنرل پولیس بھی رہے ۔ لکھتے ہیں ۔ پینتیس سال قبل کراچی ائرپورٹ پر پی آئی اے کے ایک ملازم نے بظاہر پولینڈ کے صدر کو گاڑی کے نیچے کچلنے کی کوشش کی لیکن قریب پہنچ کر گاڑی کا رخ بدل گیا اور دو استقبال کرنے والے گاڑی کی زد میں آگئے ۔ تفتیش پر ملزم نے بتایا کہ وہ پولینڈ کے صدر کو نہیں بلکہ اپنے صدر یحی خان کو اس کے غلط چال چلن کی وجہ سے مارنا چاہتا تھا۔ اتفا‍ق سے صدر یحی خان عین آخری وقت اسلام آباد میں رک گئے تھے ۔ ملزم جب تیز رفتار سے گاڑی چلاتا ہوا قریب پہنچا تو دیکھا کہ دو بچے پھول پیش کر رہے ہیں ۔ ان کو بچانے کے لئے گاڑی ایکدم موڑی تو وہ دو استقبال کرنے والوں سے ٹکرا گئی ۔ حکومت کی تسلی نہ ہوئی اور انکوائری ایک بریگیڈئر کے ذمہ کی گئی ۔ انکوائری کے بعد بریگیڈئر نے احسن صاحب کو بتایا کہ میں نے ملزم سے حقیقت اگلوا لی ہے اور ان کو ملنے کا کہا ۔ وہاں پہنچنے پر احسن صاحب کو دیکھتے ہی ملزم نے کہا ۔ جناب بات تو وہی ہے جو آپ کو بتائی تھی مگر بریگیڈئر صاحب کی مار پیٹ سے تنگ آ کر اور بالخصوص ان کی اس دھمکی کے خوف سے کہ اگر میں نے ان کے ساتھ تعاون نہ کیا تو وہ بر سرعام میری بیوی کو برہنہ کر دیں گے ۔ میں نے ان کی مرضی کے مطابق بیان دے دیا ہے ۔

ایک پولیس ملازمین کی کمزوری بھی ہے کہ پولیس کے نچلے عملہ کی تنخواہیں اتنی کم ہوتی ہیں کہ ان کے بیوی بچوں کے جائز اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے اس لئے بھی وہ سرداروں اور وڈیروں اور جرائم پیشہ لوگوں کے غلام بن جاتے ہیں کیونکہ وہ ان کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ جب یہ عادت پڑ جاتی ہے تو جہاں سردار اور وڈیرے نہیں وہاں پولیس والے شریف یا بے وسیلہ لوگوں کی کلائی مروڑ کر اپنا خرچ پورا کرتے ہیں۔ یہی حال پٹواری اور گرداور وغیرہ کا ہے ۔

موجودہ قوانین اور نفاذ کے موجودہ نظام (پولیس سسٹم) کی موجودگی میں پاکستانی عوام کو ظلم سے چھٹکارہ اور آزادي کیسے مل سکتی ہے ؟

باقی انشااللہ آئندہ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: