What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

تبدیلی تبدیلی تبدیلی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 17, 2005

خود بدلتے نہیں ۔ سب کچھ بدل دیتے ہیں
میرے اہل وطن یہ کیا چارہ گری کرتے ہیں

تبدیلی تبدیلی تبدیلی ۔ پچھلے پینتیس چالیس سال سے یہ گردان سنتا چلا آ رہا ہوں ۔
نتیجہ ۔ جتنی تبدیلی لائی گئی ہے اتنا ہی ملک اور قوم کا نقصان ہوا ۔
وجہ ۔ تبدیلی اس لئے لائی گئی کہ تبدیلی لانا تھی ۔
تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں لا لا کر تعلیم کو بے مقصد بنا دیا گیا ہے ۔
حکومتیں تبدیل کر کر کے ملک کو وحشیوں بھرا جنگل بنا دیا گیا ہے ۔
آئین میں تبدیلیاں کرتے کرتے ملک بے آئین ہو کے رہ گیا ہے ۔
آجکل تو تبدیلی نہیں تبدیلیوں پر زور ہے ۔
اللہ رحم کرے اس ملک پر اور ہم عوام پر ۔

اور ہاں ضیاء صاحب کیفے حقیقت والے کو بھی اردو میں تبدیلی کا شوق چرایا ہے ۔
ارے میاں ۔ ذ اور ز کو برداشت کر لیجئے ۔ پہلے ہی اردو کو شائد گنواروں یا ان پڑھوں کی زبان سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ معاندانہ سلوک کیا جاتا رہا ہے ۔ اردو میں تبدیلیاں کیں تو جو ٹوٹی پھوٹی اردو رہ گئی ہے وہ بھی دفن ہو جائے گی ۔

ترقّی چاہیئے تو ترقّی تبدیلی سے نہیں ہوتی بلکہ ترقّی از خود تبدیلی لاتی ہے ۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے ترقّی کی کوشش کیجئے ۔ تبدیلیاں خود بخود آئیں گی ۔ اور ترقّی کے نتیجہ میں آنے والی تبدیلیاں صحت مند اور خوشگوار ہوں گی ۔ مگر ترقّی کے لئے بے غرض محنت کی ضرورت ہے ۔


2 Responses to “تبدیلی تبدیلی تبدیلی”

  1. Asma Mirza said

    Assalamoalaykum w..w!

    well, about this "zay” and "zaal” story, if this is changed then next time we would be coming up with something else that needs to be changed.

    Changes are good and necessary but changes in a fully formed language may lead to deterioration!

    Now we shoud be looking forward to bring changes for good … but as its usually hit and trial case … so at least our intentions should be clean and for good!

    I don’t know whether its very much concerned to said topic or not; but u know what happened when Kamal Attaturk introduced roman styled writing in turkey instead of arbic script; u can see what happened … newer generations are now far from Quran, from the real essence that can only be understood if original script be read… well , i’m going elsewhere … i dont think so there’s any need for such change … we have to look beyond such things towards bigger goals and aims!


  2. ???? said

    You are right, if start changing things there is no end to it. We must change our thinking regarding bringing about a change or changes. Changes should follow development and not precede it.

    The problem is not only understanding of Qur’aan, they have become a confused nation so far as their language is concerned.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )


Connecting to %s

%d bloggers like this: