What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

آج کے دن ایک اعتراف

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 8, 2005

آج آٹھ جون ہے یعنی میری بیٹی کا یوم پیدائش ہے۔ میری ایک بیٹی ہے۔ ویسے تو سب ہی ایک ہیں یعنی میری ایک بیوی ہے۔ ایک بڑا بیٹا ہے زکریا اور ایک چھوٹا بیٹا ہے فوزی ۔ ٹھیک ہے نا ۔ ایک ایک ہی ہوئے نا ؟ (ہا ہا ہا) میری بیٹی کا نام ہے منیرہ ۔ یہ نام میری امی (اللہ غریق رحمت کرے) نے تجویز کیا تھا۔ میری بیٹی مجھے بہت ہی پیاری ہے۔ اور بیٹی بھی مجھے بہت پیار کرتی ہے۔ ایک مسئلہ ہے جو کئی سالوں سے حل نہیں ہو سکا وہ یہ کہ میں کہتا ہوں کہ میں زیادہ پیار کرتا ہوں اور بیٹی کہتی ہے میں زیادہ پیار کرتی ہوں۔ بعض اوقات اس معاملہ پر ہم میں تکرار ہو جاتی ہے مگر جلد ہی ہم دونوں ہنسنے لگ جاتے ہیں اور صلح ہو جاتی ہے۔ پرانی بات ہے ایک دفعہ بیٹی کا کوئی مطالبہ مجھے معقول نہ لگا میں نے کوئی رد عمل نہ دکھایا اور خاموش ہو گیا۔ بیٹی نے سمجھا کہ میں ناراض ہو گیا ہوں اور رو رو کے اپنا برا حال کر لیا۔ میں جب اس کے کمرہ میں گیا تو اسے دیکھ کر حقّا بقّا رہ گیا۔ اس کی ہچکی بندھ چکی تھی۔ میں نے بیٹی کو پچکارا اور بڑی مشکل سے باور کرایا کہ میں اس سے ناراض نہیں۔

جنوری میں اور میری بیگم ۔ بیٹی کو کراچی میں سیٹ کرنے گئے۔ چار دن بعد میں سخت بیمار ہو گیا۔ کچھ وقت ہسپتال میں بھی گذارنا پڑا۔ ایک ماہ تک کافی تکلیف رہی۔ ذرا طبیعت سنبھلی تو میں بیٹی کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ تو آدھی بھی نہ رہی تھی۔ اب میں سوچتا ہوں کہ والدین تو اولاد سے پیار کرتے ہی ہیں مگر ایسی بیٹیاں بہت کم ہوں گی جو اپنے والدین سے اتنا والہانہ پیار کریں۔ چنانچہ میں ہار گیا اور بیٹی جیت گئی۔ ارے ارررررے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ یہ بھی میری ہی جیت ہے کیونکہ بچوں کی جیت والدین کی ہی جیت ہوتی ہے۔

Advertisements

7 Responses to “آج کے دن ایک اعتراف”

  1. Danial said

    ایک عرصہ دراز بعد کسی بلاگ پر ایک اتنی سادہ دلچسپ اور اثر انگیز تحریر پڑھی ہے۔ میں اس بات کو بالکل صحیح نہیں مانتا مگر لوگ کہتے ہیں کہ بیٹیاں اکثر اپنے والد سے زیادہ پیار کرتی ہیں۔

  2. اجمل said

    دانیال صاحب۔ بات ماننے یا نہ ماننے کی نہیں۔ بات اصل اور نقل کی ہے۔ اصل چونکہ اصل ہی ہوتا ہے تو اس میں نہ تو رنگ بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ اس پر شیرینی چڑھانے کی اور یہ دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ اصل کو نہ پہچاننے والوں کو حقیقتیں کڑوی اور بدشکل لگتی ہیں۔
    مائیں ان کے بعد بیویاں اور پھر بیٹیاں محبت ہی محبت ہوتی ہیں۔ ان کی طرف تھوڑی سی توجہ ان کو اور بھی فریفتہ کر دیتی ہے۔ بیٹی کا ماں کی نسبت باپ کی طرف زیادہ جھکاؤ اس صورت میں ہوتا ہے کہ باپ بیٹی کی ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے۔ جو بد قسمت باپ بیٹی کو بوجھ یا بد شگونی سمجھتے ہیں اللہ سبحانہ و تعالی ان کی بیٹیوں کے دل میں باپ کے لئے ماں کی نسبت زیادہ محبت نہیں ڈالتا۔

  3. Danial said

    بجا فرمایا

  4. SHAPER said

    girls/woman r most beautiful gift of God… doesn’t matter whts she is…. hmm mother, wife, daughter and ya probably girl firends …. lol

  5. SHAPER said

    girls/woman r most beautiful gift of God… doesn’t matter whts she is…. hmm mother, wife, daughter and ya probably girl firends …. lol

  6. اجمل said

    Mr Shabbir, I do not believe in having a girl friend of the type men have in the West. Most of the girl friends do not become wives and many marriages with girl friends end in separation. What is the use then ?

  7. SHAPER said

    Ajmal …. i was kidding. i know haveing a gf is not our culture and Islam is not allow us to have a girl friend and he has a solid reasons for it

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: