What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

پھول کی فریاد

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 1, 2005

ہماری شائد ساتويں جماعت کی اردو کی کتاب تھی مرقعء ادب۔ اس میں اچھی اچھی اور سبق آموز نظمیں تھیں۔ ایک تھی "پھول کی فریاد” مجھے پوری تو یاد نہیں جتنی یاد ہے لکھ دیتا ہوں۔ کوئی صاحب پوری جانتے ہوں تو میرے بلاگ پر لکھ دیں۔ ممنون ہوں گا۔

کیا خطا میری تھی ظالم تو نے کیوں توڑا مجھے
کیوں نہ میری عمر ہی تک شاخ پہ چھوڑا مجھے
خورشید کہتا ہے کہ میری کرنوں کی سب محنت گئی
مہ کو غم ہے کہ میری دی ہوئی سب رنگت گئی
جانتا اگر اس ہنسی کے دردناک انجام کو
میں ہوا کے گدگدانے سے نہ ہنستا نام کو

Advertisements

One Response to “پھول کی فریاد”

  1. SHAPER said

    اچھی شاعری ہے۔ اسکول کی کتابوں کی کئ چیزیں مجھے یاد ھیں۔ پہلی جماعت کا پہلا سبق ” صبح ہوئی دادی اماں نے مرغی کا دڑبہ کھولا ۔ دڑبے سے مرغی اور اس کے بچے نکلے۔” یہ سبق مجھے پورا یاد ہے میں نے یہ نظم نہیں پڑھی۔–>

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: