What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

٣۔ميری امّی

پاکستان بننے کے بعد ہم بے سروسامان پاکستان آئے تھے ۔ ميرے مُحترم والد صاحب نے ہم بہن بھائيوں کی اچھی تعليم و تربيّت کيلئے بہت محنت کی ۔ يہ اُنہی کی محنت کا نتيجہ ہے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے فضل و کرم سے ہم سب بہن بھائيوں نے باعزّت زندگی گذاری ہے ۔ ہمارے مُحترم والد صاحب کہا کرتے تھے "محنت کرو گے پڑھو گے تو سب تمہارے رشتہ دار اور دوست ہوں گے بصورتِ ديگر رشتہ دار کنارہ کشی اختيار کر ليں گے اور کوئی باعزّت آدمی دوست نہيں بنے گا "۔ بالکل سچ کہا تھا اُنہوں نے ۔

مائيں تو سب کی بہت اچھی ہوتی ہيں ۔ خود جاگ کر بچوں کو سُلاتی ہيں ۔ خود بھُوکا رہ کر بچوں کا پيٹ بھرتی ہيں ۔ چاہے خود کتنی تکليف ميں ہوں اُن کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اُن کی اولاد کو کسی قسم کی تکليف نہ ہو ۔ بچوں کی خاطر محنت مزدوری تک کرتی ہيں ۔

ميری مُحترمہ والدہ صاحبہ نے چھياسٹھ برس کی عمر ميں اچانک برين ہَيمريج [Brain Hemorrhage] ہونے کی وجہ سے 29 جون 1980 عيسوی کو  وفات پائی ۔ مُحترمہ والدہ صاحبہ ميرے لئے ايک ناياب خزانہ تھيں ۔ اُن پر اللہ کی خاص رحمت تھی ۔ اُنہوں نے کبھی کسی کی بدخواہی نہ کی حتٰی کہ جنہوں نے اُنہيں زِک پہنچائی اُن کا بھی کبھی بُرا نہ سوچا بلکہ اُن کی بہتری کے لئے دُعا کی ۔

مُجھے مُحترمہ والدہ صاحبہ کے پاؤں چُومنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ وسط 1971 عيسوی ميں جب ميں ايک بچے کا باپ تھا مُحترمہ والدہ صاحبہ کی ٹانگ ميں شياٹِکا [Sciatica] کا شديد درد ہوا ۔ ميں اُن کی پنڈلياں سہلاتا رہا ۔ اللہ سے اُن کی شفاء کيلئے گڑگڑا کر دُعا کرتا رہا اور مُحترمہ والدہ صاحبہ کے پاؤں کے تَلوے چومتا رہا ۔ نمعلوم کتنے بيٹے ہوں گے جنہيں يہ اعزاز حاصل ہوا ہو ۔

اگر کوئی مُحترمہ والدہ صاحبہ کی موجودگی ميں بھی اُن کی بُرائی کرتا تو وہ اُس کی ترديد نہ کرتيں ۔ ايک دفعہ ايک رشتہ دار عورت نے ميری خالہ سے جو کہ ميری ساس بھی تھيں مُحترمہ والدہ صاحبہ کے متعلق مَن گھڑت بات کہی ۔ ميں اور مُحترمہ والدہ صاحبہ نے بات سُن لی تو ميں نے مُحترمہ والدہ صاحبہ سے اُس بات کی ترديد کرنے کو کہا ۔ وہ کہنے لگيں "ميرے ترديد کرنے کی کوئی ضرورت نہيں۔ سب جانتے ہيں کہ سچ کيا ہے”۔ يہ بات مجھے معقول نہ لگی مگر ميں خاموش ہو گيا ۔ کئی سال بعد مُجھے يہ فلسفيانہ حِکمت سمجھ آئی جب ميں نے مندرجہ ذيل مقولہ پڑھ کر اِسے سمجھنے کی کوشش کی ۔

“Test of fairness is that how fair you are to those who are not.”

ميری مُحترمہ والدہ صاحبہ اس مقولہ کا ايک مُجسّم نمونہ تھيں ۔ اُنہوں نے اپنی زندگی ميں اپنے سسرال والوں ۔ اپنے بہن بھائيوں بشمول سوتيلے بہن بھائی ۔ اپنے بچوں ۔ اپنے بچوں کے بچوں اور ہر انسان جو اُن کے پاس آيا اُس کی خدمت کی ۔ محُترمہ والدہ صاحبہ نے بہت سادہ زندگی گذاری ۔ شرم و حياء اِس قدر کہ کبھی کسی مرد سے آنکھ ملا کر بات نہ کی ۔

مُحترمہ والدہ صاحبہ کو عربی زبان پر عبور حاصل تھا ۔ جب وہ قرآن شريف کی تلاوت کرتيں تو مُجھے ترجمہ کر کے سُنايا کرتی تھيں ۔ اُنہوں نے کبھی کسی پر حتٰی کہ ہم پر بھی کبھی اپنی قابليت کا اظہار نہ کيا تھا ۔ اُن کے اچھی خاصی انگريزی جاننے کا مُجھے اُس وقت پتہ چلا جب میں نے 1979 عيسوی میں اُنہيں ٹيليفون پر کسی سے انگريزی ميں بات کرتے ہوئے سُنا ۔ اُنہوں نے مصر ميں قاہرہ کے ايک اعلٰی معيار کے سکول ميں تعليم حاصل کی تھی اور اطالوی زبان بھی جانتی تھيں ۔

ميں بچپن ميں ديکھا کرتا تھا کہ مُحترمہ والدہ صاحبہ کبھی کبھی ہميں کھانا دينے سے پہلے کُچھ سالن يا ترکاری پليٹ ميں نکال کر رکھ ديتيں ۔ ايک دن يہ عُقدہ کھُلا جب اُنہوں نے مُجھے ايک پليٹ ميں نکالا ہوا سالن ايک بھکاری کو دينے کا کہا ۔ دراصل جس دن ہمارے کھانا کھانے سے پہلے کوئی بھکاری نہ آئے اُس دن وہ سالن يا ترکاری نکال کے رکھ ديتی تھيں ۔ وہ اِنتہا کی صابرہ تھيں ۔ وہ کسی کو تکليف ميں نہيں ديکھ سکتی تھيں اور دوسروں کی تکليف کيلئے پريشان ہو جاتی تھيں

ميں سکول کے زمانہ ميں گھڑی کو الارم لگا کر سوتا تھا تا کہ سورج نکلنے سے کافی پہلے اُٹھوں اور نماز پڑھوں ۔ جب ميں آٹھويں جماعت ميں پڑھتا تھا تو ايک شام ميں گھڑی کو چابی دينا بھُول گيا اور گھڑی کھڑی ہو جانے کی وجہ سے الارم نہ بجا ۔ مُحترمہ والدہ صاحبہ نے آ کر جگايا اور غُصہ ميں کہا ” مُسلمان کا بچہ سورج نکلنے کے بعد نہيں اُٹھتا "۔ اُس دن کے بعد مجھے الارم کی ضرورت نہ رہی اور ميں بغير الارم کے سورج نکلنے سے ايک گھينٹہ پہلے اُٹھتا رہا ۔ اب کہ ميری عمر پينسٹھ سال سے اُوپر ہو چکی ہے کبھی ميری فجر کی نماز قضا ہو جائے تو مُجھے يوں محسوس ہوتا ہے کہ مُحترمہ والدہ صاحبہ کہہ رہی ہيں ” مُسلمان کا بچہ سورج نکلنے کے بعد نہيں اُٹھتا "۔

ميری اللہ القادر و الکريم والرحمٰن والرحيم کے حضور استدعا ہے کہ ميری مُحترمہ والدہ صاحبہ کو جنّت الفردوس ميں اعلٰی مقام عطا فرمائے ۔ آمين ثم آمين ۔

میری امی میری جنت
جولائی سن 1980 عیسوی

میں اک ننھا سا بچہ تھا                  میں کچھ بھی کر نہ سکتا تھا
مگر میں تجھ کو پیارا تھا                تیری آنکھوں کا  تارہ  تھا
خود جاگتی مجھے سلاتی تھی         میری امّی میری امّی

سوچا تھا :-
نہ ہو گی تجھ میں جب طاقت         رکھوں گا تجھ سے میں الفت
دوں گا تجھ کو بڑی راحت               اٹھاؤں گا میں تیری خدمت
جو خدمت تو اٹھاتی تھی                 میری امّی میری امّی

مگر :-
یک دم روٹھ کے تو چلی گئی           اس فانی دنیا سے جاوداں دنیا
نہ خدمت تو نے مجھ سے لی          نہ میں کندھا دے سکا تجھ کو
کہاں ڈھونڈوں تیری ممتا              میری امّی میری امّی

مقام آخرت تیرا ہے جنت               اس دنیا میں تھی تو میری جنت
جو نہ دے سکا میں تجھ کو           وہ پھول تیری لحد پہ برساتا ہوں
اپنی بیچارگی پرآنسو بہاتا ہوں        میری امّی میری امّی

تیری قبر کے سرہانے تھا بیٹھا          تیری روح آ کے گذر گئی
پھیلی چار سو مہک گلاب کی         میری روح معطّر ہو گئی
نہ تجھے دیکھ سکا نہ بول سکا        میری امّی میری امّی

تیری دعاؤں سے جیتا تھا                تیری دعاؤں سے پھلتا تھا
تیری دعاؤں کے بل بوتے                میں کسی سے نہ ڈرتا تھا
اب بز دل بن گیا ہوں میں               میری امّی میری امّی

اب صبح سویرے کون جگائےگا      آیات قرآنی مجھے کون سناۓ گا
تحمل و سادگی کون سکھاۓ گا    تجھ بن کچھ بھی نہ بھاۓ گا
وللہ مجھے اپنے پاس لے جاؤ           میری امّی میری امّی

 

مندرجہ ذیل نظم ميں نے والدہ مُحترمہ کی وفات کے پانچ چھ ہفتے بعد لکھی تھی ۔ ۔

کتنے نازوں ميں تو نے کی ميری پرورش
تجھے ہر گھڑی رہتا تھا بہت خيال ميرا
تيری دعاؤں ميں رہا سدا ميں شامل
تيری موت نے مگر کيا نہ انتظار ميرا
يہ زندگی کس طرح گذرے گی اب
نہ دل ہے ساتھ ميرے نہ دماغ ميرا
ميں جو کچھ بھی ہوں فقط تيری محنت ہے
نہ یہ ميری کوئی خوبی ہے اور نہ کمال ميرا
ميری اچھی امّی پھر کريں ميرے لئے دعا
کسی طرح آ جائے واپس دل و دماغ ميرا
تيرے سِکھلائے ہوئے حوصلہ کو واپس لاؤں
پھر کبھی چہرہ نہ ہو اس طرح اشک بار ميرا
تيرے سمجھائے ہوئے فرائض نبھاؤں ميں
کٹھن راہوں پہ بھی متزلزل نہ ہو گام ميرا
روز و شب ميں پڑھ پڑھ کر کرتا رہوں دعا
جنّت الفردوس ميں اعلٰی ہو مقام تيرا

15 Responses to “٣۔ميری امّی”

  1. اٰمین ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔

  2. اجمل said

    ساجد اقبال صاحب
    ميری والدہ محترمہ کيلئے دعا کا شکريہ ۔ اللہ آپ کو جزائے خير دے ۔ آمين

  3. Saba Syed said

    Asalam o Alaikum
    Allah Aap ki Walida ko apni Rehmaton ke saye mien rakhe (Ameen)

    Aap ko shayad yeh nazm shayad achi lage.

  4. Saba Syed said

  5. Saba Syed said

  6. اجمل said

    صباء سيّد صاحبہ
    السلام عليکم و رحمتہ اللہ
    نظم کے حوالہ کا شکريہ ۔ اچھی نظم ہے

  7. farrukh said

    اٰمین ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔

    we wish to put ur some articles in paper, pls grant permission!

  8. اجمل said

    فرّخ صاحب
    آپ کی نيک تمنّاؤں کا شکريہ ۔
    آپ کو اجازت ہے مگر ميرے بلاگ کے لنک کے ساتھ ۔

  9. SARFRAZ said

    ALLAH se hai Duaa
    meri tumhari payari MAAN
    rahe Hameshe Hamesha
    JANAT ka GULISTAAN

    اٰمین ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔

  10. اجمل said

    سرفراز منوّر صاحب
    شکریہ و جزاک اللہِ خیرٌ

  11. اجنبی said

    آپ کی تحریر میں ایک ایسا تسلسل ہے جو قاری کو ختم ہونے تک جکڑے رکھتا ہے ۔ یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک خاص نظرِ کرم ہوتی ہے ۔ مولا آپ کی والدہ صاحبہ کو جنت الفردوس عطا فرمائے ۔ مولا سلامت رکھے

  12. اجمل said

    سیّد طیّب حسین صاحب
    جزاک اللہ خیر ۔ اللہ واقعی بڑا مہربان ہے ۔ باقی یہ انسان کی اپنی اچھائی ہوتی ہے جو دوسرے میں نظر آتی ہے ۔

  13. ناجائز تجاوزات کے معاملے پر لکھے گۓ آپ کے بلاگ پر جواب دينے کے لۓ شُکر گُزار ہُوں اور اسی صفحے پر آپ کی اپنی امّی کے نام يادداشتيں پڑھيں جسے پڑھ کر خود پر قابُو رکھنا مُشکل ہو گيا ماں ايک اتنا پيارا رشتہ جس کے لۓ الفاظ کی کمی محسُوس ہوتی ہے دُنيا ميں انسان کے لۓ اپنے رب کا سے حسين تحفہ اور انعام ہماری جنّت جو چھن جا ۓ تو احساس ہوتا ہے کہ ہم آسمان سے زمين پر آ گۓ ہيں ہر ماں کی طرح ميری امّی نے بھی اپنی اولاد کے سُکھ دُکھ کے لۓ وہی سب کُچھ کيا جو ہر ماں کرتی ہے آج جب ہم خود اس مقام پر ہيں تو احساس ہوتا ہے کہ جس طرح ميں اپنی اولاد کے لۓ سوچتی ہُوں بالکُل ايسے ہی ميری امّی سوچتی ہوں گی ميری امّی کو بھی برين ہيمرج ہُوا ابُو کی وفات کے صرف ايک سال بعد امّی بھی چلی گئيں اندر سے شايد اتنا ٹوٹ گئيں تھيں ايسے ميں مامُوں نے اُنہيں لندن اپنے پاس بُلايا ايک ماہ تک اُن کے پاس بالکُل ٹھيک اور تندرُست رہنے کے بعد اچانک شوگر اور بلڈ پريشر ہائ ہونے کے وجہ سے برين ہيمرج ہُوا اور تيس دن تک ہاسپٹل ميں رہنے کے بعد ہم اُن کا جسد خاکی ہی لا سکے ميں يو اے ای کے قوانين اور اپنے شوہر کے فيلڈ ميں ہونے کی وجہ سے اُن کی وفات سے صرف دس گھنٹے پہلے ہی اُن تک پہنچ پائ اور اتنے عرصے کي بچھڑي بيٹي دل کی کوئ بھی بات اپني ماں سے نا کر پائ اُنہوں نے صرف ايک مرتبہ آنکھ کھول کر ميری طرف ديکھا ايک آنسو اُن کی آنکھ سے نکلا وہ آنسُو اور اپنے ہاتھ پر اُن کے ہاتھ کا گرم لمس ابھی تک دل پر نقش ہے 1999ميں اُن کی وفات ہُوئ ليکن آج آٹھ سال گُزرنے پر بھی ہر دن ايسا لگتا ہے جيسے کل کی بات ہے ماں ہستی ہی ايسی ہے ميں آپ کا درد اپنے دل ميں ايسے ہی محسُوس کررہی ہُوں جيسے اپنی ماں کے لۓ محسُوس کر رہی ہُوں کيونکہ ماں تو سبھی کی سانجھی ہوتی ہے ايک نظم تھی شا يد آپ کو اچھی لگے
    ماں
    تيری ياد کو لفظ بناتی ہوں
    تو وہ تيرے لہجے کی خوشبو کو ترستے ہيں
    جيسے
    کوری مٹی کے کھنکھناتے برتن پر
    پانی کے چند قطرے گريں
    تو محض کھن کی آوازآتی ہے
    کوئ لہجہ آتا ہے نا کوئ لمس
    اور
    شب و روزکی محنت سے جوڑے يادوں کے وہ چند لفظ
    حقيقت کی ايک ہی ٹھوکر سے تڑخ جاتے ہيں کہ
    تو نہيں ہے
    اور جو ہستی کی تکان سے بوجھل آنکھيں
    تيری يادوں کے خواب بُننا چاہيں
    توِخاموش دھندلے سے خاکے
    تيری شبيہ کے رنگوں کو ترستے ہيں
    آنکھوں کی تھکن بڑھتی ہے
    خوابوں کی اُلجھن بڑھتی ہے
    بے صدا الفاظ
    بے شبيہہ تصويريں
    دُکھوں کی چُبھن بڑھاتی ہيں
    زيست کی تکان کو بڑھاتی ہيں
    کوئی کندھا نہيں
    کوئی آغوش نہيں
    کوئی دلاسا نہيں
    اور تيری طرف جاتا کوئی رستہ نہيں
    بس مٹی کا گھروندہ ہے
    جو تيرا نشان بناتا ہے
    مجھ کو پاس بُلاتا ہے
    بے حُکم کيسے جاؤں
    اپنے درد کيسے بتاؤں
    يادوں کے تانے بانے بنتے ہيں،
    ٹوٹتے ہيں
    تو بے بسی ہاتھ تھام ليتی ہے
    اور کہتی ہے تو نہيں ہے
    کہيں نہيں ہے
    ماں جو جنّت نشاں ہے
    درخواست دعا ہوں سب بہن بھائيوں سے اللہ آپ سب کوخوش رکھے اور جن کی جنّتيں موجود ہيں اُن کواُن کی قدر کرنا سکھائے کہيں ہم ان کو گنوا کر خود اپنا آپ تو نہيں گنوا رہے
    دعا گو
    شاہدہ اکرم

  14. اجمل said

    شاہدہ اکرم صاحبہ
    اللہ آپ کی محتمہ والدہ صاحبہ اور والد صاحب کو جنت میں اعلٰی مقام عطا فرمائے اور آپ کو صدا خوش رکھے ۔ میں آپ کے احساسات کو سمجھتا ہوں ۔ بیٹیاں ہمیشہ والدین سے بہت پیار کرتی ہیں اور ان کی خدمت بھی کرتی ہیں ۔ یہ اعزاز بیٹوں کو کم نصیب ہوتا ہے لیکن اللہ نے مجھ پر بہت کرم فرمایا کہ میری ماں ہمیشہ مجھ سے خوش رہیں ۔ مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کہ میں ان کو کندھا نہ دے سکا ۔ مجھے حکومت نے لیبیا بھیجا ہوا تھا ۔ وزارتِ خارجہ نے وفات سے دو دن قبل تار اور ٹیلیکس بھیجے مجھے اس وقت ملے جب فلائیٹ جا چکی تھی اوراگلی فلائیٹ چار دن بعد تھی اس کے علاوہ بھی کسی طریقہ سے پہلے نہیں پہنچ سکتا تھا ۔

  15. السلام علیکم

    یوں تو ماں ہر ایک کو پیاری ہے مگر آپ کے احساسات اور جذبات اس تربیت کی عکاسی کرتے ہیں جو آپ کی ماں نے کی ہے۔
    اللہ تعالی سب مسلمانوں کی ماوں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
    یوں اس جنت کا اس جنت میں ٹھکانہ ہو جائے
    آمین یا رب العالمیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: