What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

٧۔رشتہ ازدواج

اُن دنوں ميں پرنسِپل ٹيکنيکل ٹريننگ انسٹيٹيوٹ تھا ۔ چند رحمدل حضرات ميرے پاس تشريف لائے اور فرمائش کی کہ معاشرہ کی صورتِ حال کے پيشِ نظر ميں تعليم يافتہ خواتين و حضرات کی مجلس ميں میاں اور بیوی کے رشتہ بارے تقرير کروں ۔ مجلس ميں نہ صرف جوان يا ميرے ہم عمر بلکہ مجھ سے کافی بڑی عمر کے خواتين و حضرات شامل تھے ۔ ميری 5 مارچ 1984 کی تقرير کا متن مندرجہ ذيل ہے ۔

                                                                                                                                 افتخار اجمل بھوپال

خالقِ حقيقی نے اس کائنات کی تخليق کے بعد حضرتِ انسان کو پيدا کيا اور چرِند پرِند کو بھی ۔ اور سب کے جوڑے بنائے ۔ تا کہ انسان کو اس مُختصر زندگی ميں جس امتحان سے گذرنا ہے اس کی زندگی آسائش کے ساتھ بسر ہو ۔ رشتۂِ اِزدواج کو اگر موضوع بنايا جائے تو انسان ايک نہ ختم ہونے والی بحث ميں مُبتلا ہو سکتا ہے ۔ ليکن اس کو اگر صرف مياں بيوی کے تعلقات ميں محدود کر کے غور کيا جائے اور بيرونی اثرات يعنی عزيز و اقارب کے ساتھ تعلقات اور دوسری حاجات کو شامل نہ بھی کيا جائے تو ايک ايسا پہلو نکلتا ہے جس پر عام طور پر توجہ نہيں دی جاتی جس کے نتیجہ میں میاں بیوی کے مابین ناچاقی جنم لیتی ہے ۔ وہ ہے نفسياتی پہلو جو کہ مياں بيوی کے باہمی تعلقات کی جڑوں سے براہِ راست مُنسلِک ہے ۔

عقدالنِّکاح ۔ جِسے عام طور پر شادی يا بياہ کہا جاتا ہے ۔ ايک پاکيزہ اور نہائت اہم رشتہ ہے جو غالباً نام کی تبديل اور ہِندوانا رسم و رواج ميں گُم ہو کر رہ گيا ہے ۔ خاوند بيوی کا رشتہ دراصل باہمی اعتماد کا رشتہ ہے ۔ يہ ايک ايسا راستہ ہے جس پر دو جی مِل کر ايک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہيں اور درحقيقت ساتھ ساتھ چلنے کا اقرار کرتے ہيں ۔ ايک گاڑی کے دو پہيّوں کی طرح ۔ ايک پہيّہ کمزور یا ناقص ہو جائے تو دوسرا گاڑی کو آگے نہيں بڑھا سکتا ۔ عقدالنّکاح خلوص اور پيار کا ايک وعدہ ہے جو مياں بيوی کو ساتھ ساتھ چلنے کيلئے ايک دِل ايک جان بنا ديتا ہے ۔

نئی نويلی دُلہن جب اپنے خاوند کے گھر آتی ہے تازہ دودھ کی مانند ہے ۔ جس طرح خالص دودھ پر جراثيم حملہ کرتے ہيں نئی نويلی دُلہن پر وسوسے اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہيں ۔ دودھ کو آگ پر رکھا جائے تو دودھ کھولنے لگتا ہے اور حرارت زيادہ ملنے پر اُبل کر برتن سے باہر آگ پر گِر کر جلنے لگتا ہے ۔ خاوند کی عدم توجہی سے عورت بالخصوص نئی دُلہن عام طور پر شک و وہم ميں پڑ کر وسوسوں کا شکار ہو جاتی ہے ۔ وسوسے ايک ايسی خطرناک آگ ہے جو نظر نہيں آتی ليکن اس کی آنچ دل ميں اُبال پيدا کرتی ہے اور وہ اندر ہی اندر سے انسان کو جلا کر بھسم کر ديتی ہے ۔ خاوند کی عدم توجہی بعض اوقات غیر ارادی بھی ہوتی ہے ۔ کچھ عورتیں اردگرد کے ماحول کے سبب شک اور وہم سے گريز نہيں کر سکتی اور وہ وسوسوں کی آگ ميں جلتی رہتی ہیں ۔ ابتداء چاہے خاوند سے ہو یا بیوی سے يہ آگ پورے گھرانے کو اپنی لپيٹ ميں لے ليتی ہے ۔

يہ صورتِ حال صرف عورت ہی پيدا نہيں کرتی بلکہ بہت سے مرد بھی اس کا شکار ہوتے ہيں ۔ محبت بھرے افسانے تو بہت سُننے اور پڑھنے ميں آتے ہيں مگر گرہستی چلانے کيلئے عقل ۔ تحمل اور بُردباری کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حقيقی دنيا ميں افسانوی کرداروں کيلئے کوئی جگہ نہيں ۔ اللہ نے عورت کو جذبات کا پتلا بنایا ہے لیکن مرد کو اس پر حَکم اسلئے دیا ہے کہ مرد کا کام جذبات میں بہنے کی بجائے تحمل اور بُردباری سے چلنا ہے ۔

عورت بيوی بننے سے پہلے کسی کی بيٹی ہوتی ہے ۔ اُس کا خاوند کا گھر بسانا ايک فطری عمل ہے ۔ يہ سلسلہ ازل سے چلتا آ رہا ہے ۔ شوہر کا گھر ہی عورت کا گھر کہلاتا ہے ۔ ليکن پھر بھی عورت جب ماں باپ کا گھر چھوڑ کر شوہر کے گھر پہنچتی ہے تو اُس کے دل ميں نفسياتی اور جذباتی خلاء پيدا ہوتا ہے ۔ يہ خلاء صرف اُس سے خاوند کی محبت اور مناسب توجہ سے پُر ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ خاوند کيلئے يہ موزوں نہيں کہ بيوی کو غلام سمجھے بلکہ خاوند کو چاہيئے کہ بيوی کی عزت کو اپنی عزت سمجھے اور اسکی ضروريات اور خواہشات کا حتی المقدُور خيال رکھے ۔ بالکل اسی طرح بيوی کو بھی چاہيئے کہ اپنی خواہشات کو خاوند کے وسائل تک محدود رکھے اور خاوند کی عزت کو اپنی عزت سمجھے ۔ خاوند کے والدین اور بہن بھائیوں کا اسی طرح احترام کرے جیسے خاوند کرتا ہو اور دونوں میں سے کوئی حد سے تجاوز نہ کرے ۔

ديکھا گيا ہے کہ کچھ مرد سارا سارا دن دوستوں کے ساتھ گھومتے اور قہقہے لگاتے رہتے ہيں ۔ کسی نے چوکڑی جما کر تاش کھيلتے آدھی رات گذار دی تو کوئی کلب ميں بيٹھ کر نان کباب تکّے اُڑاتا رہا ۔ اُن کو ذرّہ برابر خيال نہيں آتا کہ اپنے لاڈ اور پيار کرنے والے والدين کو چھوڑ کر آئی ہوئی کوئی خاتون اپنی محبتيں نچھاور کرنے کيلئے اُس کی انتظار ميں دروازے پہ نظريں لگائے بيٹھی ہے اور اُس نے کچھ کھايا پيا بھی ہے يا نہيں ۔ گھر پہنچے بيوی جلدی سے کھانا گرم کر کے لائی تو مياں صاحب ۔ ميں تھک گيا ہوں ۔ کہہ کر بستر پر دراز ہو گئے ۔ بيوی نے کہا کھانا تو کھا ليجئے ۔ جواب ملا ميں نے کھاليا تھا اور وہ بيچاری اپنے سينے پر بوجھ لئے بھوکی سو گئی ۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو گھر میں ہوتے ہوئے بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کی بیوی بھی ہے ۔ بے شک والدین اور بہن بھائیوں کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی فرض ہے لیکن ایک بات جو عام طور پر بھلا دی جاتی ہے یہ ہے کہ والدین اور بہن بھائیوں کا رشتہ ٹوٹ نہیں سکتا لیکن بیوی کا رشتہ کانچ سے زیادہ نازک ہو تا ہے ۔

کئی گھرانوں ميں ديکھا گيا ہے کہ مرد دن بھر کا تھکا ہارا گھر لوٹا اور ابھی سانس بھی نہ لينے پايا کہ سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی ۔ اتنی دير کيوں لگا دی ؟ کہاں چلے گئے تھے ؟ کس کے پاس چلے گئے تھے ؟ يہ تو ہوئے بڑے گھرانوں کے سوال ليکن يہ مُصيبت چھوٹے گھرانوں ميں بھی موجود ہے صرف سوال بدل جاتے ہيں ۔ گھر ميں آٹا نہيں ہے ۔ دال نہيں ہے ۔ بچے کو بُخار ہے ۔ وغيرہ وغيرہ ۔

ذرا سوچئے تو اگر بيوی اسی طرح روزانہ بندوق کی گوليوں کی طرح برستی رہے تو اس کا نتيجہ کيا ہو گا ؟ گھر گھر نہيں رہے گا ۔ جہنم بن جائے گا ۔ اس روزانہ کی يلغار سے مرد تنگ آ کر سکون کی تلاش ميں گھر سے باہر رہنے لگے گا جہاں وہ کئی قباحتوں کا شکار ہو سکتا ہے ۔ ليکن اس حقيقت کو جھٹلايا نہيں جا سکتا کہ مرد اپنا گھر اپنی بيوی کو چھوڑ کر کبھی سُکھی نہيں رہ سکتا ۔ دس جگہ دھکے کھا کر پھر وفادار جانور کی طرح گھر آ جائے گا ۔ اگر پھر بھی بيوی بلاجواز وسوسوں ميں پڑی رہے اور معاملہ فہمی نہ کرے تو ايک دن خاوند ايسا جائے گا کہ لوٹ کے واپس نہيں آئے گا ۔ اُس وقت اپنا سر پيٹنا اور بال نوچنا بيکار ہو گا ۔

مياں بيوی ميں اگر کھچاؤ ہو تو اس کا اثر نہ صرف ان کے باہمی تعلقات پر پڑتا ہے بلکہ ان کی جسمانی اور دماغی صحت بھی متاءثر ہوتی ہے ۔ والدين ميں تناؤ بچوں کے ذہنوں پر بھی بُرا اثر ڈالتا ہے ۔ بسا اوقات والدين کی چپقلش اولاد کے اذہان کو اتنا مجروح کر ديتی ہے کہ وہ اطمينان کھو بيٹھتے ہيں اور اپنی قدرتی صلاحيّتوں سے پورا فائدہ اُٹھانے سے قاصر رہتے ہيں ۔ والدين کی پند و نصائح اُنہيں کھوکھلی محسوس ہونے لگتی ہيں ۔ چنانچہ مياں بيوی کو نہ صرف اپنی خاطر بلکہ اولاد کی خاطر بھی رواداری اور سوجھ بوجھ کی زندگی اختيار کرنا چاہيئے ۔

پھر کيوں نہ اپنے آپ کا استحساب شروع ہی سے کيا جائے اور مياں بيوی ايک دوسرے کو مُوردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنی اپنی اصلاح کريں ۔ اپنے اندر برداشت اور رواداری پيدا کريں ۔ صبر اور بُردباری سے کام ليں ۔ ايک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کريں ۔ ايک دوسرے کے احساسات و جذبات کی قدر کريں ۔ مياں بيوی اگر ايک دوسرے کی بات کو خلوصِ نيّت سے سُنيں تو اُن کی زندگی بہت خوشگوار بن سکتی ہے ۔ ہم الحمدللہ مُسلمان ہيں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہميشہ قرآن الحکيم سے رہنمائی حاصل کريں ۔

سورة البقرة کی آيت 263 ۔ ايک ميٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خيرات سے بہتر ہے جس کے پيچھے دُکھ ہو ۔ اللہ بے نياز ہے اور برد باری اُس کی صفت ہے ۔

سُورة فُصِّلَت يا حٰم السَّجْدَة ۔ آيات 34 تا 36 ۔ اور نيکی اور بدی يکساں نہيں ہيں ۔ تم بدی کو اُس نيکی سے دور کرو جو بہترين ہو ۔ تم ديکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گيا ہے ۔ يہ صفت نصيب نہيں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہيں ۔ اور يہ مقام حاصل نہيں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصيب والے ہوتے ہيں

سورة البقرة ۔ آيت 228 آخری حصہ ۔ عورتوں کيلئے بھی معروف طريقے پر ويسے ہی حقوق ہيں جيسے مردوں کے حقوق اُن پر ہيں البتہ مردوں کو اُن پر ايک درجہ حاصل ہے

سُورة النِّسَآء ۔ آيت 34 ۔ مرد عورتوں پر قوّام ہيں ۔ اس بناء پر کہ اللہ نے ايک کو دوسرے پر فضيلت دی ہے اور اس بناء پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہيں ۔ پس جو عورتيں صالح ہيں وہ اطاعت شعار ہوتی ہيں اور مردوں کے پيچھے اللہ کی حفاظت اور نگرانی ميں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہيں

سُبحان اللہ ۔ کتنا بلند درجہ ہے درگذر کرنے والوں کا ۔ کتنے خوش نصيب ہيں وہ لوگ جو اللہ تعلٰی کے اس فرمان پر عمل کرنے کا شرف حاصل کرتے ہيں ۔ انسان سے غَلَطی سر زد ہو سکتی ہے ۔ اس کا ازالہ يہی ہے کہ اگر ايک سے غَلَطی ہو جائے تو دوسرا درگذر کرے اور جس سے غَلَطی ہو اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے ۔ اگر صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑا جائے اور رواداری اور درگذر سے کام ليا جائے تو اوّل جھگڑے پيدا ہی نہيں ہوتے اور اگر کسی وقتی غَلَطی يا غَلَط فہمی کے باعث جھگڑا ہو بھی جائے تو احسن طريقہ سے مسئلہ حل کيا جا سکتا ہے ۔ اس طرح باہمی تعلقات خوشگوار ماحول ميں پرورش پاتے ہيں ۔

وما علينا الالبلاغ

مصنّف کی التماس ۔ ہوسکے تو میرے لئے دعائے خیر کیجئے ۔

Advertisements

7 Responses to “٧۔رشتہ ازدواج”

  1. Aisha Sheikh said

    Dear Uncle, this is a very nice website, I am visiting it for the first time. Your article on "Rishta-e-Azdawaj” is very well written. If all men & women apply these golden principles in life every home will become a heaven & all the families will be contented.
    Again, congrats for all this effort. Keep it up, uncle!!!

  2. اجمل said

    عائشہ شیخ صاحبہ
    میری تحریر پڑھنے کا شکریہ ۔ آپ کو پسند آئی یہ میری خوش نصیبی ہے ۔

  3. Saba Syed said

    بہت اچھی تحریر ہے۔ مجھے قرآن پاک کی آیات کی تفسیر کافی اچھی لگیں۔ جزاک اللہ۔
    مجھے قرآن پاک کی آیت نمبر اور سورتہ تو یاد نہیں بحرحال، اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے،
    “اور ہم نے تم نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں، اور بد مردوں کے لیے بد عورتیں منتخب کی ہیں“۔

  4. اجمل said

    صبا سیّد صاحبہ
    جزاک اللہِ خیرٌ یہ تحریر میرے ذاتی مشاہدہ کا نچوڑ ہے ۔ آپ نے بالکل صحیح لکھا ہے ۔ اللہ پر یقین رکھنے والا کبھی نقصان میں نہیں رہتا ۔

  5. umair said

    chaa gaya ..

  6. اجمل said

    عمیر صاحب
    پسندیدگی کا شکریہ ۔ یہ میری 1984 عیسوی تک کی زندگی کے تجربہ کا نچوڑ ہے ۔

  7. bht Khoooooooooooob janab bht hi Khooooooooob

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: