شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں
Posted by اجمل on July 24, 2007
اپنے کمپیوٹر کا ساؤنڈ سسٹم آن کر لیجئے [switch on sound system of your computer] اور سنئے ۔
یہ واحد نظم ہے جو عبدالرشید غازی شہید نے خود لکھی اور جامعہ فریدیہ کی ایک محفل میں پڑھی تھی ۔
Posted by اجمل on July 24, 2007
اپنے کمپیوٹر کا ساؤنڈ سسٹم آن کر لیجئے [switch on sound system of your computer] اور سنئے ۔
یہ واحد نظم ہے جو عبدالرشید غازی شہید نے خود لکھی اور جامعہ فریدیہ کی ایک محفل میں پڑھی تھی ۔
basim said
اس نظم کو ایم پی تھری فارمیٹ میں حاصل کرنے کیلیے نیچے دیے گئے ربط کو کلک کیجیے
http://hera.divshare.com/launch.php?f=1229125&s=1ee
ابو حلیمۃ said
السلام علیکم،۔
اللہ سبحانہُ وتعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ جنہوں نے انسانیت کا قتل کیا ہے، ان کو ان کے کیے کی سزا ضرور ملے گی، انشاءاللہ!۔
آمین۔
ان شہداء نے تو اپنا نام اللہ کے دین کو قأیم کرنے والوں میں شامل کر لیا ہے، اب اللہ ہمیں بھی یہ توفیق دے کہ ہم میں بھی اُس اللہ کے دین کے لیے کسی بھی باطل سے ٹکرانے کا حوصلہ پیدا ہو جأے۔
آمین
اجمل said
باسم صاحب
شکریہ
اجمل said
ابو حلیمہ صاحب
بلا شُبہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔
مجھے تو حیرت اس بات پر ہے ایک شخص کسی گاڑی کے نیچے آ کر مر جائے تو خواہ قصور نیچے آنے والے کا ہی ہو ۔ ایک کہرام مچ جاتا ہے ۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ڈیڑھ دو ہزار بے گناہ طلباء و طالبات جلا اور بھُون کر رکھ دئے گئے اور عوام میں سے کوئی سڑکوں پر نہ آیا ۔
anonyums said
Shaheed koan hai? Woh Col Haroon bhee toa shaheed howa jis kee jaan aap kay is Ghazi nay lee. Woh be Panch waqat ka nimazee tha aur shaheed honay kee tumna rukhta tha.
Ghazi agencioon ka admi tha ghalat kam ka ghalat unjam
اجمل said
گمنام صاحب
بات بہت اونچی کرتے ہیں مگر اپنا نام لکھنے کی ہمت نہیں ۔ خیر کوئی بات نہیں ۔ آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ کرنل کو کسی لال مسجد والے نے نہیں مارا تھا بلکہ کرنل ۔ ایک میجر اور دو کیپٹن ان بارودی سرنگوں میں سے ایک کا شکار ہوئے تھے جو ان کے ساتھی فوجیوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے گرد اسلئے بچھائی تھیں کہ جو لال مسجد یا جامعہ حفصہ سے باہر نکلے پھڑک جائے مگر اللہ کو سب سے پہلے کرنل کا پھڑکنا منظور ہوا ۔
آپ کا دوسرا استدلال کہ مولوی ایجنسیوں کا آدمی تھا بھی کوئی صداقت نہیں رکھتا کیونکہ ایجنسیاں آجکل پرویز مشرف اور بُش کے ماتحت ہیں ۔
omerifti said
the person whose commented on number 5 anonomus i wanna say this that,
mai tumhain paisay daita hoon aur jo kuch chahiye hay mai deta hoon par agar mai tumhain yeh sub doonga tau mughay badlay mai tumhari jaan chahiye hay kia tum doogay?
agar woh agency ka banda hota na tau woh apni jaan ka nazrana aaisay na paish karta samghay beta kehna bohat aasan hota hay par nibhana bohat bohat mushkil.
aur agar tum nay un kay shaheed honay k baad ki pic dekhi hay tau tumhain un kay chehray pay aik muskurahat nazar aai hoge yeh shaheed ki nishani hooti hay.
اجمل said
عمر افتخار صاحب
آپ نے درست کہا