کیا قیامت گذر گئی
Posted by اجمل on July 15, 2007
وہ آئے فی الفور دِل پھیر کر
پھر معصوم روحوں کو گھیر کر
توپوں کے دہانے کھول دئیے
جیسے اچانک قیامت آ پڑے
ننھے فرشتوں کے پرخچے اُڑے
اَن گِنت پھول سے جسم جلے
ہو گیا بپا وہاں پر ایسا حشر
جسم سے جسم علیحدہ نہ کر سکے
سی ڈی اے کے سوِیپر چار دن
جلے جسم و ٹکڑے اکٹھے کرتے رہے
ڈبوں میں ڈال کے سبزی کی طرح
راتوں و رات اُنہیں اکٹھا دفنا دیا
آیا نہ کسی کو بھی خیال مگر
یہ بھی ہیں کسی کے لختِ جگر
کہیں تڑپتے ہوں گے ان کے باپ
کہیں تلملاتی ہوں گی مائیں بھی
قصور تھا ان کا بتاؤ تو کیا
کسی کا سر تو نہیں پھوڑا تھا
اصلاحِ معاشرہ کے واسطے
حکومت نہ فرض نبھا سکی
تھا انہوں نے اپنے ذمہ لیا
بتاؤ کیا وہ جُرم تھا اتنا بڑا
صفائی کا بھی موقع نہ دیا
سینکڑوں معصوموں کو قتل کر دیا
ابھی ابی مجھے موبائل فون پر ایک پیغام ملا ہے
یہ بازی خُون کی بازی ہے
یہ بازی تم ہی ہارو گے
ہر گھر سے غازی نکلے گا
تم کتنے غازی مارو گے

اظہرالحق said
آج استاد دامن کا یہ مصرعہ شاید بہت زیادہ یاد آتا ہے
ساڈے ملک اچ موجوں ای موجاں نے
جتھے ویکھو فوجاں ای فوجاں نے
ہم نے کشمیر تو فتح نہیں کیا نہ افغانستان البتہ پاکستان ضرور فتح کریں گے ۔ ۔۔
umair said
eik baat samajh nahin aati”
giraftari kiun nahin dae di Ghazi nae ? kiya usae bachoon k jaan piyari nahin thi ? kis nae kaha k army sae mukabla karae ? us ko pata nahin tha keh ek zid ki wajah sae kitni masoom janain zaya ho sakti hain ?
اجمل said
عمیر صاحب
آپ کو بات اسلئے سجھ نہیں آ سکتی کہ آپ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے ۔
آپ کے خیال میں مولوی صاحبان نے تو حکومت کے جالوتوں کی بات نہ مان کر بہت بڑا جرم کیا لیکن حکومت نے سینکڑوں طالبات جن میں زیادہ تر کی عمر پانچ اور سولہ سال کے درمیان تھی کو ہلاک کر کے بہت بڑا قومی فریضہ سرانجام دیا ۔
umair said
wrong. please point me to that comment where i said government did right.
i am waiting for your reply. . . . .
اجمل said
عمیر صاحب
آپ کا کہنا تھا کہ مولوی عبدالرشید غازی نے گرفتاری کیوں نہیں دی ؟ میں نے اپنے بلاگ پر اتنا کچھ نقل کیا ہے مگر آپ کی سمجھ میں نہیں آیا ۔ آپ نے یہ سوال مولوی عبدالرشید غازی سے کیوں نہیں پوچھا تھا ؟ تاکہ کہ آپ کو صحیح جواب مل جاتا ۔
umair said
ok. but please point me to that comment where i said government did right.?