۔ ۔ ۔ ۔ What Am I * * * * * * * ۔ ۔ ۔ ۔ میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد معاشرہ اور انسانی فرائض بارے اپنے علم اور تجربہ کو خصوصاً جوان نسل تک پہنچانا ہے ۔ اسکے علاوہ تاریخی واقعات ۔ جغرافیائی حقائق ۔ حالاتِ حاضرہ ۔ مُفيد کہانياں ۔ شُستہ مزاح اور عُمدہ شعر بھی لکھے جائیں گے

ضرورت ہے ایک قصائی کی

Posted by اجمل on May 24, 2007

سُنیئے جنابِ والا
کیا کہتا ہے منادی والا
منادی سُنیئے غور سے
پھر بات کیجئے کسی اور سے
ضرورت ہے ۔ ضرورت ہے
ضرورت ہے ۔ ایک قصائی کی
وردی جو اُتارے اک سپاہی کی
نہ یہ بات ہے حیرانی کی
نہ یہ بات ہے پریشانی کی

پچھلے چھ سات سال میں بڑے بلند بانگ دعوے کئے گئے مگر وردی کوئی نہ اُتروا سکا اور اب ۔ ۔ ۔ وردی والے نے وردی کو کھال کا درجہ دیدیا ہے ۔ اگر ایک دکان میں کوئی کرایہ دار 45 سال رہے اور دکان کا مالک اس قابل نہ ہو کہ اُس کرایہ دار کو دکان سے بے دخل کر سکے تو مالک صرف کرایہ دار کی باتیں سُن سکتا ہے اُسے کہہ کچھ نہیں سکتا ۔ جو شخص 45 سال وردی پہنے رکھے اور کوئی اس کی وردی اُتروا نہ سکے تو اُس سے اور کیا اُمید ہو سکتی ہے ۔ ویسے تو ہمارے ملک میں [مع وردی والے کے] انسان کی کھال اُدھیڑنے والے بہت ہیں مگر ہم نے بچپن سے اب تک قصائی کو کھال اُتارتے دیکھا ہے ۔

2 جوابات to “ضرورت ہے ایک قصائی کی”

  1. صبا سید said

    السلامُ علیکم
    نظم یا پھر کہیں منادی بہت اچھی لگی۔ اور جنہوں نے وردی کو اپنی کھال کہا ہے وہ شاید کھال، کھینچ جانے والے محاورے سے واقف نہیں۔ کوئی انہیں آگاہ کر دے ۔۔۔
    فی امان اللہ

  2. اجمل said

    صبا سیّد صاحبہ
    شکریہ ۔ جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اس کے سر میں بھوسہ قسم کی کوئی چیز ہو سکتی ہے دماغ نہیں

Leave a Reply

XHTML: You can use these tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <pre> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>