What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for May 6th, 2007

چُٹکلے

Posted by افتخار اجمل بھوپال on May 6, 2007

ہماری قوم میں کئی لوگوں کو برملا جھوٹ بولنے کی ایسی عادت ہے کہ وہ جھوٹ ظاہر ہونے پر شرمندہ ہونے کی بجائے ایک اور جھوٹ بول کر سامع کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور سرکاری افسران جھوٹ پر جھوٹ بولے چلے جاتے ہیں ۔ خیال رہے کہ پاکستان کو بنے ابھی 60 سال نہیں ہوئے ۔ ان میں سے پہلے چھ سال نکال دیں کہ جن میں سب کچھ عوام کے سامنے تھا ۔ باقی 54 سال میں سے 32 سال فوجی مطلق العنانی [Army Dictatorship] رہی اور پاکستان کے آئین کی تہس نہس کی گئی ۔ اس طرح ابتدائی 6 سال یعنی 1947 سے 1953 تک کو چھوڑ کر پاکستان پر صرف 22

 سال سویلین [Civilian] حکومت رہی پھر بھی ہمارے موجودہ صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کہتے ہیں کہ سیاست دانوں نے ملک تباہ کر دیا ۔

بروز ہفتہ 5 مئی 2007 کو چیف جسٹس صاحب کا قافلہ اسلام آباد سے لاہور روانہ ہوا ۔ ایم کیو ایم نے اس کے مقابلہ میں اسی دن کراچی میں جلوس نکالا ۔ نجی ٹی وی والوں کو حکم دیا گیا کہ ایم کیو ایم کے جلوس کی لائیو کوریج [Live coverage] کی جائے ۔ نجی ٹی وی چینلز جن میں آج ۔ اے آر وائی ون اور جیو شامل ہیں نے چیف جسٹس صاحب کے قافلہ کی لائیو کوریج کی ۔ اس پر ایم کیو ایم نے حسبِ عادت زورآوری دکھائی اور کراچی ۔ حیدرآباد ۔ سکھر سمیت سندھ کے تمام بڑے شہروں میں کیبل آپریٹرز سے ان تینوں چینلز کی نشریات بند کروا دیں ۔ رات گئے ایم کیو ایم کے ایک ترجمان نے فرمایا کہ نجی ٹی وی والوں نے جانبداری دکھاتے ہوئے عوام [ایم کیو ایم] کے اتنے بڑے جلوس کو نہیں دکھایا اور چند وکلاء کے جلوس کو کوَر کرتے رہے ۔ اسلئے عوام نے ٹی بند کر دئیے ۔ کوئی جھوٹ بولے تو ایسا ۔

اسی دن ہمارے ملک کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف ایک نے سیاسی جلسہ منقد کیا اور اس میں تقریر کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے لئے ووٹ مانگے اور وکلاء کو متنبہ کیا کہ وہ عدالتی معاملہ کو سیاسی نہ بنائیں ۔ بھئی واہ ۔ خود تو صاحب بہادر ملک کے آئین اور قانون کی پچھلے سات سال سے دھجیاں اُڑاتے آ رہے ہیں اور پچھلے دو ماہ سے سیاسی جلسوں میں ووٹ مانگتے پھر رہے ہیں جبکہ پاکستان کا آئین اور فوج کا قانون کسی فوجی کو سیاسی جلسہ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتا کُجا کہ وہ اس میں سیاسی تقریر بھی کرے ۔ اور پاکستان کا آئین صدر کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ سیاسی تقریر کرے یا کسی ایک پارٹی کی حمائت کرے کیونکہ وہ پورے پاکستان کا صدر ہوتا ہے ۔

Posted in روز و شب | 2 Comments »

چیف جسٹس کا قافلہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال on May 6, 2007

چیف جسٹس کا قافلہ ہفتہ 5 مئی کو اسلام آباد سے روانہ ہوا اور راولپنڈی سے شاہراہ شیر شاہ سوری پر سفر کرتا ہوا اتوار 6 مئی کو صبح ساڑھے چار بجے لاہور کے قریب شاہدرہ پہنچا جہاں جلوس کی لمبائی چار کلو میٹر ہو چکی تھی ۔ شاہدرہ میں ہزاروں لوگ ہفتہ کی صبح سے چیف جسٹس کی انتظار میں تھے اور ٹولیوں کی شکل میں چہل قدمی کرتے رہے ۔ ان میں وکلاء اور جماعت اسلامی ۔ تحریکِ انصاف ۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے کارکن کن شامل تھے ۔ اب قافلہ شاہدرہ سے چل چکا ہے اور مینارِ پاکستان اور داتا دربار سے ہوتا ہوا لاہور ہائی کورٹ پہنچے گا جہاں چھ ہزار سے زائد وکلاء استقبال کیلئے کل سے جمع ہیں اور بڑے جوش و خروش میں ہیں ۔ لاہور ہفتہ اور اتوار کی پوری درمیانی رات جاگتا رہا ۔ لاہور میں متذکرہ سیاسی جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں کے علاوہ عام لوگ بھی چوبیس گھینٹے سے چیف جسٹس کے استقبال کیلئے کھڑے ہیں ۔

راولپنڈی سے نکلتے ہوئے جب قافلہ سواں پُل کے قریب پہنچا تو وہاں لگی ہوئی گیس پائپ میں اچانک آگ لگ گئی جس کی وجہ سے قافلہ کو کافی دیر وہاں رُکنا پڑا ۔ جہلم میں قافلہ پہنچنے سے پہلے استقبال کیلئے اکٹھے ہونے والے وکلاء اور دوسرے شہریوں پر پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کیا جس سے کئی لوگ زخمی ہوئے ۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں شدید لاٹھی چارج کیا گیا جس سے تیس لوگ زخمی ہوئے جن میں مسلم لیگ نواز کی رکن پنجاب اسمبلی بھی شامل ہیں ۔ گوجرانوالہ میں کسی نے سٹیج پر پٹاخہ پھینکا جس سے بھگدڑ مچنے سے چیف جسٹس کے ایک وکیل حامد خان کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ راستے میں کئی جگہ پر لگائے گئے استقبالیہ کیمپ پولیس نے اُکھاڑ دئیے ۔ راستہ میں آنے والے تمام شہروں اور شاہراہ شیر شاہ سوری کو ملنے والی تمام سڑکوں کی پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی ۔

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.