۔ ۔ ۔ ۔ What Am I * * * * * * * ۔ ۔ ۔ ۔ میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد معاشرہ اور انسانی فرائض بارے اپنے علم اور تجربہ کو خصوصاً جوان نسل تک پہنچانا ہے ۔ اسکے علاوہ تاریخی واقعات ۔ جغرافیائی حقائق ۔ حالاتِ حاضرہ ۔ مُفيد کہانياں ۔ شُستہ مزاح اور عُمدہ شعر بھی لکھے جائیں گے

Archive for February 1st, 2007

کيا ہوتا ۔ ۔ ۔

Posted by اجمل on February 1, 2007

اُنيس دن قبل جب رات کو درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نيچے تھا سردی لگنے سے مجھے بخار ہو گيا ۔ ليٹے ليٹے ميرا دماغ چل پڑا اور ذہن سے جو شعر نکلے وہ نذرِ قارئين ہيں ۔ خيال رہے کہ ميں شاعر نہيں ہوں اسلئے کوئی غلطی ہو تو درگذر کيجئے ۔

ميں دنيا ميں ہوں تو کيا ہوا ۔ گر نہ ہوتا تو کيا ہوتا

بچايا گناہوں سے اللہ نے ۔ مجھ پہ ہوتا تو کيا ہوتا

اپنائی نہ زمانے کی روِش کھائی ٹھوکريں زمانہ کی

چلتا گر ڈگر پر زمانے کی تو ترقی کر کے بھی تباہ ہوتا

لمبی تقريريں کرتے ہيں اوروں کو سبق دينے والے

خود کرتے بھلائی دوسروں کی تو اُن کا بھی بھلا ہوتا

کرو اعتراض تو کہتے ہيں تجھے پرائی کيا اپنی نبيڑ تو

اپنا بھلا سوچنے والے سوچتے دوسروں کا تو کيا ہوتا

کر کے بُرائی اکڑ کے چلتے ہيں ذرا ان سے پوچھو

نہ ہوتا اگر اللہ رحمٰن و رحيم و کريم تو کيا ہوتا

ياد رکھنا ميرے بچو ۔ ميرے مرنے کے بعد بھی

چلنے والا صراط المستقيم پر ہے کامياب ہوتا

Posted in روز و شب | 11 Comments »