ميں نے ايک لائحہ عمل بنا رکھا ہے جس پر عمل کرنے کی ميں پوری کوشش کرتا ہوں ۔ سوچا کہ اِسے قارئين کی نذر کيا جائے کہ شائد کوئی مہربان اسے بہتر بنانے کيلئے اپنی عُمدہ تجويز سے مُجھے نوازيں ۔ يہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ميں سے کوئی عمل کسی قاری کو پسند آجائے اور وہ اُسے اپنا کر ميرے حق ميں دعائے خير کريں ۔
بولنے اور لکھنے ميں ہميشہ شُستہ زبان استعمال کی جائے ۔ اس سے سُننے والے والے پر اچھا اثر پڑتا ہے
کسی فرد کی ذاتی خامياں سب کے سامنے بيان نہ کی جائيں ۔ ايسا کرنے سے اشتعال پيدا ہوتا ہے ۔ ويسے بھی کسی کی ذاتی خامياں سرِعام بيان کرنا مہذّب انسان کو زيب نہيں ديتا
کسی گروہ يا جماعت کے غلط اقدامات اُجا گر کرتے ہوئے ذاتيات کو بيچ ميں نہ آنے ديا جائے ۔ کيونکہ اس سے بات کرنے يا لکھنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے
اشتعال انگيزی کے جواب ميں صبر سے کام ليا جا ئے ۔ ايسا رويّہ اشتعال انگيزی کرنے والے کو اپنے رويّے پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے
کسی فرد کے بد زبانی کرنے پر خاموشی اختيار کی جائے ليکن اگر جواب دينا ضروری ہو تو تحمل اور شائستگی کے ساتھ جواب ديا جائے ۔ ايسا کرنا بد زبانی کرنے والے ميں بات سُننے کا رُحجان پيدا کرتا ہے
*
میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔
Hypocrisy Thy Name – - http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔
